لاہور بورڈ میں بڑا اصلاحاتی قدم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے امتحانات کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے نویں جماعت کے پریکٹیکل پیپرز کی ای مارکنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ حکام کے مطابق اب پریکٹیکل کے تھیوری حصے کو بھی سینٹرلائزڈ مارکنگ سینٹر میں چیک کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری لاہور بورڈ رضوان نذیر نے بتایا کہ پریکٹیکلز کے دوران مس مینجمنٹ اور نمبروں کے غلط استعمال کی شکایات موصول ہو رہی تھیں، خاص طور پر 30 میں سے مکمل نمبر دینے کے حوالے سے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور مزمل محمود کی ہدایات پر فوری اصلاحات کی گئیں۔ اب پریکٹیکلز کی بھی سینٹرلائزڈ مارکنگ ہوگی اور لیبارٹریز میں کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم ہو سکے۔ای مارکنگ کے تحت طلبہ کو مخصوص ‘ای شیٹ’ فراہم کی جائے گی جس میں ہر سوال کے لیے الگ جگہ مختص ہوگی۔ پیپر بورڈ پہنچنے کے بعد اسکین کر کے مختلف حصوں میں تقسیم کیے جائیں گے اور ایگزامینرز کو آن لائن آئی ڈی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ گھر بیٹھے جوابات چیک کر سکیں۔ بورڈ کی جانب سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ بھی کی جائے گی اور ہر ممتحن کو مکمل پیپر کے بجائے مخصوص سوالات دیے جائیں گے تاکہ بوجھ کم ہو اور معیار بہتر رہے۔ حکام کے مطابق پورے پنجاب میں فرسٹ ائیر کے پہلے سالانہ امتحان میں آئی سی ایس کا پیپر ای مارکنگ پر ہوگا، جبکہ آئندہ دو سے تین سال میں تمام پیپرز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔