ہاکی کی بحالی کا مشن شروع، ایڈہاک صدر نے پی ایچ ایف میں بڑی اصلاحات کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نو تعینات ایڈہاک صدر محیی الدین وانی نے قومی کھیل کو دوبارہ عروج پر لے جانے کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان کر دیا۔
اپنے پہلے پالیسی بیان میں انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا کہ پاکستان میں ہاکی کی بحالی اور مضبوطی کے لیے عملی اقدامات فوری طور پر شروع کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کو مستحکم کرنے، اعتماد کی بحالی اور ٹیم مینجمنٹ کی ازسرِ نو تشکیل پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق قلیل مدتی حکمتِ عملی کے تحت فوری نوعیت کے مسائل حل کیے جائیں گے، جبکہ درمیانی مدت میں ایک واضح اور مؤثر اسٹریٹجک وژن تیار کیا جائے گا۔
کوچنگ، تربیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زورایڈہاک صدر نے کہا کہ کوچنگ اور تربیتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی تاکہ قومی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گورننس کو بہتر بنایا جائے گا اور وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی معاونت کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو صرف اپنی تربیت اور میچز پر توجہ دینے کا موقع دیا جائے گا، جبکہ انتظامی معاملات فیڈریشن خود سنبھالے گی۔
شفاف انتخابات اور جمہوری انتقالِ اقتدار کا اعلانایڈہاک صدر نے اعلان کیا کہ نئی قیادت کے انتخاب کے لیے شفاف انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ جمہوری انداز میں اختیارات کی منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی ٹیم کے کپتان حماد بٹ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق شفافیت اور انصاف فیڈریشن کے ہر فیصلے کی بنیاد ہوں گے۔
وزیراعظم کے اعتماد پر اظہارِ تشکرانہوں نے معزز وزیراعظم کے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے قومی کھیل کو دوبارہ عروج دلانے کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے کھلاڑیوں، حکام اور شائقینِ ہاکی سے اپیل کی کہ وہ مل کر پاکستان کی ہاکی کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈہاک صدر انہوں نے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔