گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کیلئے 300 دکانوں کا انتظام کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
دکانداروں کیلئے ٹینٹ لگا کر عارضی دکانیں بنا دی گئی ہیں، عارضی دکانوں میں کے ایم سی کی جانب سے بجلی فراہم کی جائے گی، دکانداروں اور خریداروں کیلئے پانی اور بیت الخلا کا انتظام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کیلئے کے ایم سی نے پولو گراؤنڈ میں 300 دکانوں کا انتظام کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دکانداروں کیلئے ٹینٹ لگا کر عارضی دکانیں بنا دی گئی ہیں، عارضی دکانوں میں کے ایم سی کی جانب سے بجلی فراہم کی جائے گی، دکانداروں اور خریداروں کیلئے پانی اور بیت الخلا کا انتظام ہے۔ کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی سیکیورٹی کیلئے 50 سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے۔ خیال رہے کہ کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔ افسوسناک واقعے میں 86 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا انتظام کے ایم سی
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔