پنجاب بھر میں رمضان نگہبان دسترخوان، لاکھوں روزہ داروں کی افطاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پنجاب بھر میں رمضان المبارک کے آغاز پر ’رمضان نگہبان دسترخوان‘ پروگرام کے تحت افطار دسترخوان سجا دیے گئے جہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روزہ داروں نے پہلے روزے کی افطاری کی۔ یہ دسترخوان وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر مخیر حضرات اور مختلف اداروں کے اشتراک سے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کی 10 ہزار روپے کی امداد، 10 ہزار میں کتنے دن کیا کھایا جا سکتا ہے؟
وزیراعلیٰ مریم نواز نے رمضان نگہبان دسترخوان سجانے پر مخیر افراد اور اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک احساس اور اخوت کا مہینہ ہے اور ہر ضرورت مند کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ اخوت ہے جس کا عملی مظاہرہ پنجاب بھر میں کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں پہلے روزے کے موقع پر بڑی تعداد میں روزہ دار افطاری کے لیے نگہبان دسترخوان پہنچے۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں خوشی اور روحانیت کا سماں رہا۔ اسی طرح راولپنڈی، بہاولنگر اور بہاولپور میں بھی ہزاروں افراد نے اجتماعی طور پر افطار کیا۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر منڈی بہاوالدین میں قائم رمضان نگہبان بازارij۔۔۔۔#رمضان_نگہبان_مریم_کیساتھ#نگہبان_ہے_رمضان pic.
— Aliraza Goraya (@AlirazaGoraya99) February 20, 2026
چنیوٹ، ڈی جی خان، گجرات اور جھنگ میں بھی بڑی تعداد میں شہری ’مریم کے مہمان‘ بنے اور سجے سجائے دسترخوانوں سے مستفید ہوئے۔ اٹک، جہلم، قصور اور خانیوال میں بھی روزہ داروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کوٹ ادو، لیہ اور منڈی بہاؤالدین میں نگہبان دسترخوان پر بھرپور تواضع کا اہتمام کیا گیا، جبکہ مری، مظفرگڑھ، اوکاڑہ اور نارووال میں اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی روزہ داروں کے ہمراہ افطار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت بلوچستان کا رمضان پیکج، 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندان مستفید ہوں گے
پاکپتن، راجن پور، رحیم یار خان اور ساہیوال میں بھی ہزاروں افراد افطاری کے لیے پہنچے، جبکہ وہاڑی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ، بھلوال اور سرگودھا میں رش دیکھنے میں آیا اور اخوت کی خوبصورت مثال قائم ہوئی۔
اسسٹنٹ کمشنر شکرگڑھ میاں عدنان عاطف کی ہدائیت پر چیف آفیسر بلدیہ افیسر سروسز اور جنرل سیکرٹری پریس کلب (سٹی گروپ) ذوہیب شیخ کی رمضان نگہبان دسترخوان(مریم کے مہمان) کا وزٹ اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہر خاص وعام کے لیت افطاری کے بہترین انتظامات ہونگے????????❤️???? pic.twitter.com/WtWKMaUdrs
— Mani (@mdon80032) February 20, 2026
مختلف مقامات پر قورمہ، بریانی، روح افزا، پکوڑے، سموسے اور دیگر لوازمات سے روزہ داروں کی تواضع کی گئی۔ مخیر افراد اور اداروں کے تعاون سے پنجاب بھر میں 300 سے زائد نگہبان دسترخوان قائم کیے گئے ہیں۔
لاہور میں بھی مختلف مقامات پر لاکھوں افراد نے افطاری کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے رمضان نگہبان دسترخوان پر لاکھوں افراد کی آمد پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام باہمی تعاون اور سماجی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حکومت پنجاب رمضان نگہبان دسترخوان مریم نواز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حکومت پنجاب رمضان نگہبان دسترخوان مریم نواز رمضان نگہبان دسترخوان مریم نواز میں بھی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔