رمضان آتے ہی مہنگائی میں اضافہ، 17اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
رمضان آتے ہی مہنگائی میں اضافہ، 17اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی نے بھی زور پکڑ لیا، حالیہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 1.16 فیصد اضافہ ہوا، سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح بھی 4.
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق انڈے 11.78فیصد، آلو 2.24فیصد، گڑ 0.16فیصد، چینی 0.96فیصد، دال مسور 1.47 فیصد، دال چنا 0.58 فیصد، ویجیٹیبل گھی فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.07 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 2.02 فیصد کمی واقع ہوئی۔چکن 6.34 فیصد، ٹماٹر3.82 فیصد، لہسن 5.86فیصد، پیاز 3.83فیصد، مٹن 0.69 فیصد، بیف میں1.03 فیصد، پٹرول 1.93فیصد، ڈیزل 2.69فیصد، ایل پی جی 0.75فیصد اور کیلوں کی قیمتوں میں 16.05فیصد اضافہ ہوا۔
حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.11 فیصد اضافے کے ساتھ 5.50فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.50فیصد اضافے کے ساتھ 6.78 فیصد رہی۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.03 فیصد اضافے کے ساتھ5.59فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.92فیصد اضافے کے ساتھ4.82فیصد رہی جبکہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.78فیصد اضافے کے ساتھ 3.82فیصدرہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا پاکستان میں فٹبال کے فروغ اور ترقی کیلئے مکمل حمایت کا اعادہ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا پاکستان میں فٹبال کے فروغ اور ترقی کیلئے مکمل حمایت کا اعادہ عمران خان کو 25فروری کو اسپتال منتقل کیا جائے گا، وزیرِ مملکت طارق فضل چوہدری پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی، اعداد و شمار جاری ایتھوپین سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ترکمانستان کے سفیر سے ملاقاتِ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیپیٹل ہسپتال کا علی بابا میڈیکل اے آئی کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط، کیپیٹل ہسپتال میں اے آئی پر مبنی ریڈیولاجی اسکریننگ متعارف محمد عارف کیلیفورنیا گورنر کے الیکشن میں مرکزی ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر سامنے آئےCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔