’روشنیوں کے شہر‘ کی مخدوش عمارت نے 3 بہنوں کی زندگی کے چراغ بھی بجھادیے، ماں پر غشی کے دورے
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
شہر کے علاقے سولجر بازار میں دھماکے کے بعد عمارت گرنے کے المناک واقعے نے کئی خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کے سولجر بازار میں گیس دھماکا، عمارت کا حصہ منہدم: 13افراد جاں بحق، 14زخمی
اس سانحے میں مجموعی طور پر 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ٹنڈو محمد خان سے تعلق رکھنے والی 3 سگی بہنیں بھی شامل ہیں۔
بہتر مستقبل کی تلاش، مگر خواب ملبے تلے دب گئےمتاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جبکہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔
مزید پڑھیے: لیاری میں 6 منزلہ عمارت کی چھت گرنے سے 2 بہنیں جاں بحق، 3 زخمی
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بہتر روزگار کی تلاش میں شہر آئے خاندان کی 3 لڑکیوں کا دنیا سے رزق ہی اٹھ گیا۔
ماں پر قیامت گزر گئی46 سالہ شہزادی لغاری پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ایک ماں کے لیے اپنی تینوں بیٹیوں کو ایک ساتھ کھو دینا ناقابل بیان صدمہ ہے۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے اور وہ شدید صدمے کے باعث نڈھال ہیں۔
گاؤں میں سوگ کی فضاٹنڈو محمد خان میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اہل علاقہ، رشتہ دار اور پڑوسی سوگوار خاندان سے اظہارِ تعزیت کر رہے ہیں اور انہیں صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔ پورا گاؤں اس سانحے پر افسردہ دکھائی دیتا ہے۔
امداد کی اپیللواحقین نے حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ خاندان کی فوری مالی اور انسانی بنیادوں پر مدد کی جائے تاکہ اس قیامت خیز سانحے کے بعد یہ گھرانہ دوبارہ زندگی کی ڈگر پر چل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
3 بہنیں جاں بحق سولجر بازار کراچی کراچی عمارت گرگئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولجر بازار کراچی کراچی عمارت گرگئی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔