پنجاب، کالعدم تنظیموں، غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری کر دی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت کالعدم تنظیموں کو کسی قسم کی معاونت فراہم کرنا جرم ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ شہری غیر رجسٹرڈ اور کالعدم خیراتی اداروں کو زکوٰۃ، خیرات اور عطیات مت دیں، دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی امداد کرنے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
پنجاب میں خیراتی اداروں کیلئے پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹریشن لازم ہے، شہری اپنی زکوٰۃ، خیرات اور عطیات صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دیں، تمام رجسٹرڈ اداروں کی تصدیق انکے سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ سے کی جاسکتی ہے۔
محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ شہری یقینی بنائیں کہ ان کی امداد دہشت گردوں کی بجائے صحیح حقدار تک پہنچ رہی ہے۔
کالعدم تنظیموں کی فہرست میں لشکر جھنگوی، سپاہ محمد پاکستان، جیش محمد، الرحمت ٹرسٹ بہاولپور، الفرقان ٹرسٹ کراچی، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، تحریک نفاذ شریعت محمد، تحریک اسلامی، القاعدہ، ملت اسلامیہ پاکستان شامل ہیں۔
فہرست میں خدام الاسلام، اسلامی تحریک پاکستان، جمعیت الانصار، جماعت الفرقان، حزب التحریر، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، بلوچستان لبریشن آرمی، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان، لشکر اسلامی، انصار السلام، حاجی نامدار گروپ، تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان رپبلیکن آرمی بھی شامل ہیں۔
اس فہرست میں بلوچستان لبریشن فرنٹ، لشکر بلوچستان، بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم، شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی گلگت کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
مرکز سبیل آرگنائزیشن گلگت، تنظیم نوجوانانِ اہل سنت گلگت، پیپلز امن کمیٹی لیاری، اہلِ سنت والجماعت، الحرمین فاؤنڈیشن، رابطہ ٹرسٹ، انجمن امامیہ گلگت بلتستان، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت، تنظیم اہل سنت والجماعت گلگت، بلوچستان بنیاد پرست آرمی کالعدم تنظیموں میں شامل ہے۔
کالعدم تنظیموں میں تحریک نفاذ امن، تحفظ حدود اللہ، بلوچستان واجہ لبریشن آرمی، بلوچ رپبلیکن پارٹی آزاد، بلوچستان یونائیٹڈ آرمی، اسلام مجاہدین، جیش اسلام، بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی، خانہء حکمت گلگت بلتستان، تحریک طالبان سوات، تحریک طالبان مہمند، طارق گیدڑ گروپ، عبداللہ اعظم بریگیڈ، ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔
اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، اسلامک جہاد یونین، 313 بریگیڈ، تحریک طالبان باجوڑ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر (حاجی نامدار گروپ)، بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، جئے سندھ متحد محاذ، داعش، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی، انصار الحسین، تحریک آزادی جموں و کشمیر، جنداللہ، الرحمت ویلفئیر ٹرسٹ آرگنائزیشن، بلاورستان نیشنل فرنٹ کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جماعت الدعوۃ، الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوۃ الارشاد پاکستان لاہور، الحمد ٹرسٹ لاہور/ فیصل آباد، موسک اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ لاہور، المدینہ فاؤنڈیشن لاہور، معاذ بن جبل ایجوکیشنل ٹرسٹ لاہور کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ نے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الفضل فاؤنڈیشن/ٹرسٹ لاہور، الایثار فاؤنڈیشن لاہور، پاک ترک انٹرنیشنل CAG ایجوکیشن فاؤنڈیشن، حزب الاحرار، جئے سندھ قومی محاذ، سندھو دیش ریولیوشنری آرمی، سندھو دیش لبریشن آرمی کو بھی بین کیا ہوا ہے۔
کالعدم تنظیموں میں خاتم الانبیاء، غازی فورس، زینبیون بریگیڈ، مجید بریگیڈ، حافظ گل بہادر گروپ، پشتون تحفظ موومنٹ، تحریک لبیک پاکستان، غلامانِ صحابہ، معمار ٹرسٹ، سچل سرمست ویلفیئر ٹرسٹ کراچی، الجزاء پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کراچی، الاختر ٹرسٹ، الراشد ٹرسٹ شامل ہیں۔
کالعدم تنظیموں کی فہرست محکمہ داخلہ پنجاب اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر بھی دی گئی ہے، دھوکہ دہی، دہشتگردی یا ریاست مخالف سرگرموں میں ملوث تنظیموں کی شکایت محکمہ داخلہ تک پہنچائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔