14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس؛ آئی ایم ایف کا پاکستانی معیشت بہتر ہونے کااعترا ف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام کی سمت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد 25 فروری سے پاکستان کا باضابطہ دورہ کرے گا، جس میں اہم معاشی امور زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جاری پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر حکام سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
آئی ایم ایف مشن معاشی کارکردگی، اہداف میں پیشرفت کا جائزہ لینے رواں ماہ پاکستان آئے گا
بجلی نرخوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر آئی ایم ایف اور پاکستان میں مشاورت
وزارتِ خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی پالیسیوں نے پاکستانی معیشت کو استحکام فراہم کیا اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی مالی کارکردگی مستحکم رہی اور ملک نے مجموعی قومی پیداوار کے 1.
انہوں نے نشاندہی کی کہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جسے معاشی توازن کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل آئی ایم ایف
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔