اسرائیل پورا مشرقِ وسطیٰ حاصل کرلے تو اعتراض نہیں ہوگا، امریکی سفیر مائیک ہکابی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
یہودی قوم کے زمین پر حق سے جوڑتے ہوئے ان کا یہ متنازع مؤقف معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آیا، جو جمعہ کو نشر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کا نگراں نہیں، شراکت دار ہے، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
انٹرویو کے دوران اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں پر بات کرتے ہوئے ہکابی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سرحدیں مقدس انجیل میں بیان کردہ حدود پر مبنی ہیں۔
کارلسن نے نشاندہی کی کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق میں دریائے فرات سے لے کر مصر میں دریائے نیل تک کا علاقہ شامل ہے۔ اس خطے میں موجودہ لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے کچھ حصے شامل ہوتے ہیں۔
US policy in the Middle East is being driven by fundamentalist nutters
"Mike Huckabee says it would be ‘fine’ if Israel took all Middle East land.
— William Dalrymple (@DalrympleWill) February 21, 2026
اس پر مائیک ہکابی نے کہا کہ اگر اسرائیل یہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا، بعد ازاں کارلسن نے وضاحت چاہی کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کے پورے خطے پر پھیلاؤ کی حمایت کرتے ہیں، جس پر مائیک ہکابی نے جواب دیا، “وہ اسے لینا نہیں چاہتے، وہ اس کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے۔”
بعد میں ہکابی نے اپنے بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’کچھ حد تک مبالغہ آرائی‘ تھی، تاہم انہوں نے یہ دروازہ کھلا رکھا کہ اگر اسرائیل پر مختلف ممالک حملہ کریں اور وہ جنگ جیت کر زمین حاصل کرلے تو یہ ’ایک الگ بحث‘ ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی امریکی سفیر مائیک ہکابی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کو تیار
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے علاقائی سالمیت اور طاقت کے ذریعے زمین کے حصول کی ممانعت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول رہی ہے۔ 2024 میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے فیصلہ دیا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
اسرائیل نے 1981 میں شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں کو اپنے ساتھ ضم کیا تھا، جسے عالمی برادری غیر قانونی سمجھتی ہے، تاہم امریکا وہ واحد ملک ہے جو اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے۔
2024 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل نے لبنان کے اندر بھی 5 مقامات پر فوجی چوکیاں قائم کیں۔
JUST IN: ???????????????? US Ambassador to Israel Mike Huckabee says it would be fine for Israel to take over the entire Middle East because god gave them the land.
"It would be fine if they took it all." pic.twitter.com/Vr6qiU8ors
— BRICS News (@BRICSinfo) February 20, 2026
کچھ اسرائیلی سیاست دان بشمول وزیر اعظم نیتن یاہو کھل کر ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کی حمایت کرتے رہے ہیں، 2023 میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزازیل اسموٹریچ نے ایک تقریب میں ایسے نقشے کے ساتھ خطاب کیا جس میں فلسطینی علاقے اور لبنان، شام اور اردن کے کچھ حصے اسرائیل کا حصہ دکھائے گئے تھے، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
اس حالیہ انٹرویو میں مائیک ہکابی نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کا حق بین الاقوامی قانون میں موجود ہے، تاہم انہوں نے بین الاقوامی قانونی اداروں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو آئی سی سی اور آئی سی جے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ ادارے ’منصفانہ قانون کے اطلاق‘ سے ہٹ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل پر تنقید کے جرم میں برطانوی صحافی سامی حامدی امریکا میں گرفتار
اپنے سفارتی دور میں ہکابی کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک یا قید ہونے والے امریکی شہریوں کے حقوق کے لیے بھرپور آواز نہیں اٹھا سکے۔
گزشتہ سال انہوں نے سزا یافتہ جاسوس جوناتھن پولارڈ سے ملاقات کی، جس پر امریکا میں بعض حلقوں نے ناراضی کا اظہار کیا، پولارڈ امریکی نیوی کے سابق تجزیہ کار تھے جنہوں نے خفیہ معلومات اسرائیل کو فراہم کیں اور 30 برس قید کاٹنے کے بعد 2020 میں اسرائیل منتقل ہوگئے۔
مائیک ہکابی نے کہا کہ وہ پولارڈ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم انہوں نے اس سے ملاقات کرنے پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی افواج امریکی سفیر انجیل بینجمن نیتن یاہو جوناتھن پولارڈ مائیک ہکابی مارکو روبیو مشرق وسطیٰ وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی افواج امریکی سفیر انجیل بینجمن نیتن یاہو مائیک ہکابی مارکو روبیو امریکی سفیر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔