ایم کیو ایم ، (ق) لیگ اور بی اے پی کا دہشتگردی کے خاتمےکیلئے فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ایم کیو ایم ، (ق) لیگ اور بی اے پی کا دہشتگردی کے خاتمےکیلئے فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: ایم کیو ایم ، (ق) لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی نے دہشتگردی کےخاتمےکےلیے سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں (ق) لیگ کے رہنما چوہدری سالک، ایم کیوایم کے خالد مقبول صدیقی اور بی اے پی کے خالد مگسی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیام امن کےلیے کوششوں کو سراہا اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سیاسی رہنماؤں نے فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیوں میں جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔
اس موقع پر وزیرداخلہ محسن نقوی نے تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کو خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صورتحال و قیام امن کےلیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیلان سرمائی اولمپکس میں چین نے ایک اور طلائی تمغہ جیت لیا صدر زرداری کی جانب سے چین کو خوشحالی میں مسلسل پیش رفت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، خاتون خودکش حملہ آور گرفتار بنوں: فتنہ الخوارج کا فورسز کے قافلے پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید، 5 دہشتگرد جہنم واصل آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد خیبرپختونخوا حکومت کو رمضان پیکیج سے زیادہ بانی کے دانت اور آنکھ اہم ہیں، عظمٰی بخاری شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی: سپریم کورٹCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔