بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی میں موجود ہو۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت نے اقوامِ متحدہ کے سو سے زائد رکن ممالک کے اُس مشترکہ بیان سے خود کو وابستہ کیا ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی ڈی فیکٹو توسیع کی مذمت کی گئی ہے۔ تاہم وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ دستاویز باقاعدہ مذاکرات کے ذریعے طے شدہ متن نہیں تھا اور بھارت کا مؤقف پہلے ہی مشترکہ وزارتی اعلامیے میں بیان کیا جا چکا ہے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کا مؤقف حالیہ انڈیا–عرب لیگ وزارتی مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر درج ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی قانون، متعلقہ اقوامِ متحدہ قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے قیام کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق بھارت ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی میں موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی حمایت بھی اسی مؤقف کا حصہ ہے۔ جیسوال نے یہ بھی بتایا کہ متعدد دیگر ممالک نے بھی بیان جاری ہونے کے بعد خود کو اس سے وابستہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ "بورڈ آف پیس" اجلاس میں مبصر کی حیثیت سے شرکت کی اور غزہ امن منصوبے سمیت سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ ایران کی صورتحال پر سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت وہاں کی پیشرفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے شہریوں کے لuے سفری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی حمایت کے قیام کہا کہ

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی