بحرالکاہل میں امریکی فضائی کارروائی، مشتبہ کشتی تباہ؛ 3 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی فوج نے بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک کشتی کو فضائی حملے میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ کشتی بحرالکاہل کے اس سمندری علاقے میں سرگرم تھی جہاں حالیہ مہینوں میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کشتی ایسے نیٹ ورک سے منسلک تھی جو مبینہ طور پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہے اور بعض تنظیموں کو امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کشتی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے تین افراد کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی سدرن کمانڈ نے تصدیق کی کہ یہ آپریشن جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل کو روکنا اور اس سے وابستہ مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں ایسے آپریشنز کے دوران تقریباً 150 افراد ہلاک جبکہ متعدد اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے منشیات کی سپلائی لائن اور اس سے جڑے گروہوں کی مالی معاونت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں نے ان کارروائیوں میں ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے آپریشنز میں بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک