حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔
اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔
وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔
پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔
ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔
دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔
ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔
ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔
اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے ۔)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتی ہیں آزادی کی کرتے ہیں عورت کے جاتا ہے جاتی ہے اور اس
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔