Express News:
2026-07-24@02:02:40 GMT

حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔ 

اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔

وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔

پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔

ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔

دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔

ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ 

ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔

ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔

ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔

اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے ۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتی ہیں آزادی کی کرتے ہیں عورت کے جاتا ہے جاتی ہے اور اس

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف