Express News:
2026-06-02@23:45:13 GMT

حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔ 

اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔

وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔

پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔

ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔

دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔

ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ 

ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔

ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔

ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔

اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے ۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتی ہیں آزادی کی کرتے ہیں عورت کے جاتا ہے جاتی ہے اور اس

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان