بنگلا دیش الیکشن بھارت اور پاکستان میں ٹینشن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بارہ فروری کو اِنتخاب بنگلا دیش میں ہوا ہے مگر اس کی گھبراہٹ کی بازگشت بھارت اور پاکستان میں سنائی دے رہی ہے۔ بھارت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پندرہ سالہ غلبے اور پچپن سالہ محنت کا صفایا ہوگیا ہے، اسے شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کا قلق تو تھا ہی لیکن جس جماعت کو کچل کر مسل کر پھینک دینے کے لیے بھارتی ریاستی مشینری برسوں سے دن رات سرگرم تھی وہی جماعت اسلامی الیکشن میں ابھر کر سامنے آرہی تھی پوری انتخابی مہم میں بھی بھارتی تجزیہ نگاروں کا نشانہ محض جماعت اسلامی ہی تھی، اور ان کا کہنا تھا کہ پوری تحریک دراصل جماعت اسلامی نے چلائی اور حسینہ کا تختہ بھی اسی نے الٹا ہے۔
پھر جب انتخابات کا اعلان ہوا جماعت اسلامی بھرپور انتخابی مہم کے تحت میدان میں ابھری تو ان ہی پاکستان دشمن بھارتی تجزیہ نگاروں کو عشروں سے بری لگنے والی بی این پی سے ہمدردی ہوگئی، پاکستانی جرنیل کی بیوی خالدہ ضیا کے انتقال کو ہمدردی سمیٹنے کا بہانہ بنایا اور اچانک ازلی دشمن پاکستان کی فوج کے ایک جرنیل کے بیٹے طارق رحمن کو وزیر اعظم بنگلا دیش بنوانے پر کمر بستہ ہوگئے، ان کا خیال تھا کہ ہم نے جماعت اسلامی کو حسینہ واجد کی مدد سے ختم کردیا ہے اور الیکشن میں بھی ایک دو سیٹوں سے زیادہ نہیں لے سکے گی لیکن سیاسی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی انہیں، بلکہ ساری دنیا کو اندازا ہوگیا کہ جماعت اسلامی ختم نہیں ہوئی مزید مضبوط ہوگئی ہے، اس کے بعد انتخابی عملے اور سول سروسز میں موجود حسینہ کی باقیات نے پوری جانفشانی سے کام کیا اور جہاں موقع ملا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے، اس کے نتیجے میں تقریباً پچاس نشستوں پر جماعت اسلامی نہایت قلیل ووٹوں کے فرق سے ہار گئی یا ہروا دی گئی، اس کا اندازا نہیں کہ پاکستان کہ طرح آرٹی ایس بٹھانے یا فارم 47 کے معاملے میں بنگلا دیش کتنا آگے ہے لیکن جماعت اسلامی نے حیرت انگیز طور پر 77 نشستیں حاصل کرلیں، بھارتی میڈیا، ان کو چلانے والی ایجنسیاں اور نام نہاد تجزیہ نگار بھی بھونچکا رہ گئے۔ ان کو خطرہ ہوا کہ جماعت اسلامی حکومت میں شامل نہ ہوجائے، کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے۔ لیکن جماعت اسلامی کی قیادت نے نہایت ٹھوس انداز میں پورے تحمل سے نتائج کا تجزیہ کیا اور نہایت محتاط انداز میں صرف 30 حلقوں کے نتائج رکوانے، حلف بردای رکوانے اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جماعت کو پچاس سے زیادہ نشستوں پر بے ضابطگیوں کی شکایت ہے، تاہم ان 30 نشستوں پر ٹھوس ثبوت ہیں اور فرق بھی بہت کم ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے: جماعت اسلامی کی اکیاون نشستیں ایسی ہیں جہاں چار سے پانچ سو ووٹ سے جماعت اسلامی کے مقابلے میں بی این پی کو برتری حاصل ہوئی۔ جماعت اسلامی کو جن اکیاون نشستوں میں انتہائی قلیل ووٹوں سے کامیابی نہ مل سکی اْس کا بڑی ذمے داری وہاں کی مذہبی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، بنگلا میں مدارس کا ایک جال بچھا ہوا ہے، ان مدارس کی نمائندہ تنظیموں نے الگ حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا۔ جیسے اسلامی اندولن بنگلا دیش نے 253 نشستوں پر امیدوار اُتارے لیکن صرف ایک امیدوار کامیاب ہوسکا۔ اسی طرح فرائضی اندولن، ذاکر پارٹی نے بھی سیکڑوں کی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے لیکن کہیں ایک نشست پر کامیابی ممکن نہ ہوئی۔ اسی طرح حفاظت اسلام بنگلا دیش، بنگلا دیش نظام اسلام پارٹی جیسی جماعتوں نے بی این پی کی کھل کر حمایت کی۔ اس کے علاوہ حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں بنگلا دیش کے ہر ادارے میں تھوک کے حساب سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا، بیوروکریسی میں لایا گیا، جو الیکشن میں حرکت میں لائے گئے، اس پوری صورت حال میں جماعت کا شاندار طریقے سے ابھرنا کوئی معمولی بات نہیں۔
یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی نے اب تک کیا ثمرات سمیٹے۔ جماعت اسلامی اپنی مہم کے ذریعے اور بیانیے کی بنیاد پر اٹھارہ سے ستتر نشستوں تک پہنچ گئی اور اکیاون نشستوں پر معمولی فرق سے ہار گئی، جماعت اسلامی نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی ہے۔ جماعت اسلامی نے پابندی کے بعد پھر سے اپنی تنظیم کو وسعت دی اور مضبوط کیا۔ بنگلا دیش جماعت اسلامی نے دنیا بھر کی تحریکوں کو امیدکی کرن دکھائی ہے۔ بنگلا دیش کا معاملہ تو دو قومی نظریے سے جڑا ہے اس لیے ہم پاکستانی اس لیے بھی بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کرتے ہیں کہ وہ دو قومی نظریہ کے محافظ ہیں۔ لیکن یہاں کے لبرلز کہتے ہیں کسی صورت رائٹ ونگ قبول نہیں بے شک بھارت نواز لوگ ہی اقتدار میں کیوں نہ آئیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ بھی نہیں آئے۔ ان لبرلز اور دین بیزار لوگوں کو تو سمجھ ہی میں نہیں آرہا کہ بات کیا کریں، اب ذرا تصور
کریں کہ پاکستان میں سیکولرزم اور لِبرلزم کے سیاسی بیانیے کا کیا حال ہوگا۔ اسی طرح بنگلا دیش میں جَماعَتِ اِسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پاکستان کے کچھ حلقوں کے لیے بے چینی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اُلٹے سیدھے تجزیے کیے جارہے ہیں، ایک صحافتی وفد میں شامل صاحب نے تو ڈھاکا مین ڈراما رچایا کہ خواتین نے جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیے، حالانکہ جماعت اسلامی نے چالیس فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ پروپیگنڈا اتنا تھا کہ جماعت کے ہمدردوں کا وہ گروہ بھی جو خود مذمتی میں واٹس اپ گروپوں میں ماہر ہے اور اس خود مذمتی کی بحث میں چسکے لیتا ہے اسے بھی یہ بیانیہ دیا گیا کہ اب فارم 47 اور دھاندلی کے روایتی الزام لگیں گے، دھرنے ہوں گے اور ٹائیں ٹائیں فش، لیکن جماعت اسلامی بنگلا دیش نے سیکولر، لبرزکی طرح ایسے واٹس ایپی دانشوروں کو بھی مایوس کردیا اور نہایت ٹھوس موقف کے ساتھ صرف 30 نشستوں کو قانون کے دائرے میں چیلنج کیا ہے، جماعت اسلامی بنگلادیش نے خطے کی تمام تحریکوں خصوصاً جماعت اسلامی پاکستان کے لیے بھی واضح اشارے چھوڑے ہیں کہ سیاسی لائحہ عمل کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ اور میدان کیسے ہاتھ میں رکھا جائے، اس کی روداد ابتلا مصر کے اخوان اور فلسطین کے مجاہدوں سے کم نہیں بلکہ بعض معاملات میں تو آگے ہی ہے، ہاں، اس سارے عمل میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے طرزعمل اور رویوں میں سید مودودی کی فکر، رویے، لٹریچر سے وابستگی، حکمت عملی اور دانش بہت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اور یہی سیکھنے کی چیز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ جماعت اسلامی جماعت اسلامی کو جماعت اسلامی نے بنگلا دیش نشستوں پر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔