علیمہ خان نے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے علیمہ خان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اور سوشل میڈیا کے ذریعے میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ علیمہ خان نے پارٹی کے اندر متعدد افراد پر تنقید کی۔ وہ پارٹی کے ارکان کو نوکر سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی پارٹی میں پوزیشن مضبوط ہے۔ اور متعدد اراکین صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ ہیں۔ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بیرسٹر گوہر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور پارٹی کے اہم معاملات میں مداخلت کی۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنانے میں بشریٰ بی بی اور مراد سعید نے کردار ادا کیا۔ اور علیمہ خان سہیل آفریدی سے بھی ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی رائے میں سہیل آفریدی چند ہفتوں کے مہمان ہیں۔ اور عید کے بعد پارٹی کے کچھ اراکین صوبائی اسمبلی کے لیے فیصلے اور تبدیلیاں ممکن ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر ممکنہ ڈس کوالیفکیشن کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اور دیگر قانونی معاملات بھی زیرغور ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت علیمہ خان انہوں نے پارٹی کے کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔