ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی:ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ ہوگئی، او زی گروپ کو سابقہ پارٹنرز کی دستبرداری کے سبب مالی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
عدم ادائیگی پر بورڈ کے پاس بینک گارنٹی کیش کرانے کا آپشن موجود ہوتا، اس حوالے سے آئندہ ہفتے پیش رفت سامنے آئے گی۔
دوسری جانب، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں رہے، ان کے مطابق کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف زبانی بات چیت ہوئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم کنگز مین کو ایک ارب 75 کروڑ جبکہ آٹھویں ٹیم او زی گروپ کو ایک ارب 85کروڑ روپے میں فروخت کی تھی، امریکی کمپنی نے تو وقت پر واجبات ادا کر دیے، البتہ آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔
ذرائع نے بتایا کہ نیلامی کے وقت ہی جب بڈز بڑھتی رہیں تو اوزی کے پارٹنرز کو تشویش ہوئی، درمیان میں وقفہ لے کر فون پر دونوں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جب بڈ جیت لی تو سیالکوٹ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دونوں پارٹنرز نے رقم زیادہ ہونے کا جواز دے کر دستبرداری اختیار کر لی۔
او زی گروپ نے خاصی تاخیر سے بینک گارنٹی جمع کرائی جس سے معاہدہ ختم ہونے سے بچ گیا، البتہ فیس کی ادائیگی میں اسے مشکلات کا سامنا رہا، ایسے میں ایک نئی پارٹی کو 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے پر اتفاق ہوا، اس کے اونر محمد شاہد سے رقم لیے بغیر ہی لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کر لیا گیا لیکن کچھ بھی نہ ملنے پر پھر نئے پارٹنر کی تلاش شروع ہوئی، اس پر جس پارٹی سے پہلے بات ہوئی تھی اس نے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
اس صورتحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کیش کراتے ہوئے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن موجود تھا، البتہ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش جاری رہی۔
ذرائع نے بتایا کہ بڈنگ میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی 90 فیصد سے زائد شیئرز لینے پر آمادہ ہو چکی، اس سے اوزی گروپ کا انتظامی معاملات پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ قوانین کے تحت تین سال سے قبل 100 فیصد شیئرز کی منتقلی ممکن نہیں ہے، اسٹریٹیجک پارٹنر کی صورت میں نئی پارٹی آ سکے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ جب پی سی بی نے اپنے طور پر مزید تحقیقات کیں تو ایک اونر کے ماضی میں دیوالیہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا، البتہ نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے کوئی اعلان متوقع ہوگا۔
دوسری جانب 75 فیصد شیئرز خریدنے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی نے وسیم اکرم کو فرنچائز کا صدر مقرر کیا تھا، البتہ وہ اب اس عہدے پر برقرار نہیں ہیں۔
رابطے پر وسیم اکرم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف فون پر ہی بات ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ پریس کانفرنس میں وسیم اکرم کا ویڈیو بیان بھی چلایا گیا تھا، بعض حلقوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں 10 فیصد شیئرز دینے کی بھی بات ہوئی تھی البتہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصد شیئرز وسیم اکرم نئی پارٹی ہوئی تھی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔