ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘بیماروں کی دیکھ بھال’ کے لیے طبی جہاز گرین لینڈ بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ لیویزینا کے گورنر جیف لینڈری کے ساتھ مل کر گرین لینڈ کو ایک خصوصی جہاز بھیج رہے ہیں جو بطور اسپتال استعمال ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جہاز گرین لینڈ میں بیمار افراد کی دیکھ بھال کے لیے روانہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لیویزینا کے شاندار گورنر جیف لینڈری کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم ایک عظیم ہسپتال جہاز گرین لینڈ بھیج رہے ہیں تاکہ وہاں کئی بیمار افراد کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ یہ جہاز راستے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے
وائٹ ہاؤس یا گورنر لینڈری کے دفتر نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ڈنمارک یا گرین لینڈ نے یہ جہاز طلب کیا ہے یا یہ کس مخصوص طبی ضرورت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ کا یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب ڈنمارک کے شاہ فریڈرک نے حال ہی میں گرین لینڈ کا دوسرا دورہ کیا، جس کا مقصد گرین لینڈ کے ساتھ اتحاد کا پیغام دینا تھا، جبکہ ٹرمپ نے ماضی میں گرین لینڈ خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ نے ’پینگوئن میم‘ ٹرینڈ میں حصہ لے کر گرین لینڈ کو کونسا مبہم پیغام دیا؟
واضح رہے کہ امریکی نیوی کے پاس دو ایسے جہاز ہیں جو بطور اسپتال استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں لیویزینا میں نہیں ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سا جہاز روانہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ گرین لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔