طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں، یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے۔

پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں۔ اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جائے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں کارروائی سے دہشتگردی کی نذر ہونے والے معصوموں کا بدلہ لیا، طارق فضل چوہدری

طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا۔ جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصانات کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے۔ اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا۔

پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت ٹی ٹی پی

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب