فائر وال منصوبہ ناکام ہونے پر پی ٹی آئی کی حکومت پر شدید تنقید، اہم مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر کنٹرول کے لیے نافذ کیے گئے فائر وال منصوبے کی ناکامی اور خاموش بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ 2024 میں نصب کیا گیا تھا تاکہ سوشل میڈیا کی نگرانی کی جا سکے اور اظہارِ رائے پر حد بندی کی جائے، تاہم اب فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے قبل اسے مستقل طور پر بند کر دینا اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ یہ منصوبہ تکنیکی طور پر ناکام رہا اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: فائر وال اور پیکا قوانین کا مقصد اظہارِ رائے روکنا نہیں، وزیر مملکت طلال چوہدری
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل عمران فوبیا کا شاخسانہ تھا اور موجودہ حکومت کی ترجیح معیشت کی بحالی یا سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینا نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور مخالف آوازوں کو دبانا رہی۔
پارٹی نے نشاندہی کی کہ اس بغض اور انتقامی ذہنیت کے باعث کیے گئے اقدامات نے ڈیجیٹل معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا، آئی ٹی ایکسپورٹس اور فری لانسر کمیونٹی پر منفی اثر ڈالا اور پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچایا۔
پی ٹی آئی نے کہاکہ ایسے غیر دانشمندانہ فیصلوں نے پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈالا۔ جب سرمایہ کاری 41 فیصد کم ہو، بیروزگاری ریکارڈ سطح پر ہو، قرضے بلند ترین سطح پر ہوں اور روپے کی قدر دباؤ میں ہو، اس دوران اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے اربوں روپے خرچ کرنا قومی مفاد کے سراسر خلاف تھا۔
پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائر وال منصوبے پر خرچ ہونے والی مکمل رقم اور معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، منصوبے کی ناکامی پر ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید پڑھیں: فائر وال کی تنصیب، پاکستان میں یہ تجربہ کتنا کامیاب ثابت ہو رہا ہے؟
پاکستان تحریکِ انصاف نے زور دیا کہ ملک سیاسی انتقام نہیں بلکہ معاشی استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے، بغض عمران کا کوئی علاج نہیں، مگر اس بغض کی قیمت پوری قوم ادا نہیں کر سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی حکومت پر تنقید فائر وال منصوبہ ناکام وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی حکومت پر تنقید فائر وال منصوبہ ناکام وی نیوز پی ٹی آئی فائر وال
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔