بھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
نئی دہلی(سب نیوز)بھارت کے لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت ایک اور تیجس لڑاکا طیارے سے محروم ہوگیا،تیجس طیارہ تربیتی پرواز کے دوران ایئربیس میں گر کر تباہ ہوا
پائلٹ بروقت اجیکٹ کرنے کی وجہ سے محفوظ رہا۔حادثے کے بعد بھارتی ایئرفورس نے تمام تیجس طیاروں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، انڈین ایئرفورس کے پاس 32 تیجس ایم کے ون طیارے موجود ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق دو سال کے دوران تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گرکر تباہ ہوا، دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئرشو میں زمین بوس ہوگیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے، اسپیکر ایاز صادق افغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے، اسپیکر ایاز صادق اب دہشتگردوں کیخلاف بلارعایت کارروائیاں کرینگے،پاک فوج کا دوٹوک اعلان بنوں میں سی ٹی ڈی کی تفتیشی ٹیم پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام ، دو دہشتگرد ہلاک ڈپٹی کمشنر،ڈی جی ایکسائز کی ہدایت پر موٹر بائکس پر ایم ٹیگ کی تنصیب کا عمل جاری محمد عارف نے کیلیفورنیا کے گورنر کیلئے باضابطہ امیدوار کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا اسحاق ڈار کا بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاقCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایک اور تیجس لڑاکا طیارے گر کر تباہ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔