کندھ کوٹ: پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن، دو ڈاکوؤں نے سرنڈر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : کندھ کوٹ میں پولیس اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن "نجات مھران" میں دو ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے سامنے پیش کر دیا جو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔
کندھ کوٹ پولیس اور رینجرز کے جاری مؤثر اور مسلسل آپریشن کے نتیجے میں دو ڈاکوؤں نے خود کو بی سیکشن تھانہ میں قانون کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ سرنڈر ہونے والے ڈاکو مختلف نوعیت کے سنگین وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ قانون کے سامنے پیش ہونے والے ڈاکوؤں میں شبیر احمد بجارانی اور مولاداد عرف مولا بخش عرف بابو بجارانی شامل ہیں۔
شہر میں 255 ٹریفک حادثات رپورٹ, 295 افراد زخمی
کندھ کوٹ ضلع میں امن امان کے قیام کیلئے پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کارروائیاں کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔
ایس ایس پی محمد مراد گھانگھرو نے کہا کہ کندھ کوٹ میں بدامنی کے مکمل خاتمے تک مشترکہ آپریشن پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پولیس اور رینجرز کندھ کوٹ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔