برنس روڈ پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، لیز تعمیرات گرانے پر مکین سیخ پا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے کاروباری علاقے برنس روڈ کی گلیوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی کے مصروف ترین کاروباری علاقے برنس روڈ کی گلیوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے تاہم رمضان المبارک کے اغاز پر اس طرح کے آپریشن پر علاقے کے لوگ سیخ پا ہیں۔علاقہ مکینوں نے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن میں مخصوص دکانوں کو منہدم کیا جا رہا ہے جبکہ بیشتر غیر قانونی املاک باقی ہیں جنہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں سروے کے دوران لوگوں نے برنس روڈ کی گلی نمبر 1 میں نئی تعمیر شدہ 5 منزلہ عمارت کی نشاندہی کی جو عین ان تجاوزات کے برابر موجود ہے جنہیں منہدم کیا گیا مگر اس عمارت کو کچھ نہیں کہا گیا۔علاقہ مکینوں نے کہاکہ اگر عمارت کی سیدھ میں تمام تجاوزات گرائی گئی ہیں تو وہ عمارت کیسے چھوڑ دی گئی۔اسی طرح گلی نمبر 2 میں بیشتر تعمیرات غیر قانونی قرار دے کر گرائی گئی مگر اس کے ساتھ عین گلی کے درمیان پیپلزپارٹی کے پرچم کے رنگوں والی غیرقانونی دکان بھی موجود ہے جسے نہیں گرایا گیا اور اس پر شہری سیخ پا نظر آئے۔شہریوں نے بتایاکہ ان کی منہدم کی گئی تعمیرات کے ایم سی سے لیز شدہ ہیں، جس کا پراپرٹی ٹیکس سالوں سے ادا کر رہے ہیں، تمام دستاویزات بھی انتظامیہ کو دکھائی گئیں مگر ان کی ایک نہیں سنی گئی۔اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سائوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہاکہ آپریشن جاری ہے، مرحلہ وار تمام تجاوزات گرائی جائیں گی اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برنس روڈ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔