افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب: پاکستانی فضائی کارروائی کے متاثرہ علاقوں تک میڈیا رسائی روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستان نے مصدقہ اور قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے مرکزی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم فضائی کارروائی کے فوری بعد طالبان رجیم نے متاثرہ علاقوں تک افغان میڈیا اور شہریوں کی رسائی روک دی، جس سے طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب ہوئی۔
مزید پڑھیں:’ٹی از فنٹاسٹک‘، ابھینندن پاکستانی ریسٹورنٹ میں چائے پیش کرنے لگا، ویڈیو وائرل
دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق، افغان ریاستی زیر انتظام میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی، جبکہ دیگر تباہ شدہ ٹھکانوں کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ پکتيکا، خوست، اور ننگرہار کے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ طالبان فورسز نے فضائی حملوں کے فوری بعد کئی علاقوں کو گھیر لیا۔
مقامی شہریوں کے مطابق دہشتگرد کئی برس سے یہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ خوگانی، ننگرہار، خوست اور دیگر متاثرہ مقامات پر صحافیوں کی جانے کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کارروائیوں میں ہلاکتوں کی اصل تعداد اور مکمل اثرات کیا ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کا پاکستانی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا اعلان
ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے۔ مستند شواہد سے واضح ہے کہ افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ میڈیا پر پابندی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں قائم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان رجیم پاکستانی فضائی کارروائی دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز میڈیا رسائی روک دی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم پاکستانی فضائی کارروائی میڈیا رسائی روک دی طالبان رجیم
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔