جنگلات بطور ماحولیاتی ڈھانچہ: چین کے آسمان سے پاکستان کی زمین تک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
جنگلات بطور ماحولیاتی ڈھانچہ: چین کے آسمان سے پاکستان کی زمین تک WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
مصنف: ایسل الہام، کلائمٹ گورننس اینالسٹ،
MPhil میڈیا اسٹڈیز، impactchroniclesmedia@outlook.com
چین کی وسیع شجرکاری مہم نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ جنگلات محض منظرنامہ نہیں بلکہ زندہ ڈھانچہ ہیں جو پانی کے چکر کو ازسرِنو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہائیوں کے دوران اربوں درخت بنجر زمینوں پر لگائے گئے، خصوصاً شمالی خشک علاقوں میں، جس کے نتیجے میں زمین مستحکم ہوئی، گرد و غبار کے طوفان کم ہوئے اور بارش و بادلوں کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ تاہم چین کا تجربہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پانی کی کمی والے علاقوں میں ضرورت سے زیادہ شجرکاری خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، جہاں گھنے جنگلات پہلے ہی محدود وسائل پر دباؤ ڈال دیتے ہیں۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی کے محاذ پر کھڑا ہے، بڑھتے درجہ حرارت، غیر متوقع مون سون، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور تباہ کن سیلابوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں سبق واضح ہے: شجرکاری کو ماحولیاتی باریکیوں اور دیرپا پائیداری کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
ہمارے “بلین ٹری سونامی” اور “ٹین بلین ٹری سونامی” منصوبوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے، لیکن اگلا مرحلہ محض تعداد سے آگے بڑھنا چاہیے۔ پاکستان کو یکساں نوعیت کے جنگلات کے بجائے حیاتیاتی تنوع رکھنے والے، موسمیاتی لحاظ سے موزوں جنگلات درکار ہیں جو ہر صوبے کی جغرافیائی خصوصیات کے مطابق ہوں۔ پنجاب میں نہری کناروں پر اگروفاریسٹری کے ذریعے ککر اور مورنگا جیسے مقامی درخت لگائے جا سکتے ہیں تاکہ زیرِ زمین پانی دوبارہ بھر سکے اور بخاراتی نقصان کم ہو۔ سندھ میں انڈس ڈیلٹا کے مینگرووز کو بڑھا کر کراچی کو سمندری طوفانوں سے بچایا جا سکتا ہے، جبکہ تھر میں خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام کو کمیونٹی کی شراکت سے ڈرِپ ایریگیشن کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ بلوچستان میں آبی گزرگاہوں پر شجرکاری، ایکیشیا اور زیتون کے درختوں کے ذریعے چراگاہوں کو مستحکم اور آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کمیونٹی جنگلات کو مضبوط بنا کر چیڑ اور بلوط کے درختوں سے پہاڑی علاقوں کو دوبارہ سرسبز کیا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں جونیپر اور بید کے جنگلات گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی پٹی کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں دریاؤں کے کناروں پر جنگلات اور ڈھلوانوں پر گہرے جڑوں والے درخت لگانے سے لینڈ سلائیڈنگ اور پن بجلی کے منصوبوں میں سلٹ جمع ہونے کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
شہری علاقوں کو بھی سبز راہداریوں کے ذریعے ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا جو شہروں کو ٹھنڈا کریں، ہوا کو صاف کریں اور بارش کے پانی کو سنبھالیں۔ جنگلات کو محض آرائش نہیں بلکہ ماحولیاتی ڈھانچے کے طور پر دیکھنا ہوگا، جو پانی کے نظم و نسق، آفات کی منصوبہ بندی اور شہری ڈیزائن میں جُڑے ہوں۔ اس کے لیے حکومت کے تمام اداروں کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو وزارتِ آبی وسائل، صوبائی جنگلاتی محکموں اور مقامی کونسلوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرنی ہوگی، جبکہ جامعات، مقامی برادریاں اور ماہرینِ موسمیات اس عمل میں رہنمائی فراہم کریں۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز کے ذریعے نگرانی ناگزیر ہے تاکہ ماحولیاتی نتائج کو وقتاً فوقتاً جانچا اور بہتر بنایا جا سکے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کی نوجوان نسل کو اس تبدیلی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ جامعات میں “ری وائلڈنگ” منصوبے، اسکولوں میں جنگلاتی سرپرستی کے پروگرام اور عوامی مہمات کے ذریعے یہ بیانیہ بدلنا ہوگا کہ درخت لگانا خیرات نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، نمائشی اقدام نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی ہے۔ اگر چین کے جنگلات آسمان کو بدل سکتے ہیں تو پاکستان کے جنگلات مستقبل کو بدل سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ہم دانشمندی سے لگائیں، دیانتداری سے حکمرانی کریں اور احتیاط سے پروان چڑھائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلادیشی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی اگلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا جائزہ لیا یوکرین کی آزادی اور خودمختاری کے لیے وجودی جدوجہد رنجشوں سے آگہی تک کا سفر اعتبار ہی نئی طاقت ہے امن مگر ہوشیاری کے ساتھ واشنگٹن اسٹیٹ: ایورگرین ریاست عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میںCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔