پنجاب اسمبلی کی 2 سالہ کارکردگی رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پنجاب اسمبلی میں 2 سال میں 169 بل پیش اور 144 منظور ہوئے، کارکردگی رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق 2 سال میں پنجاب اسمبلی کے 38 اجلاسوں میں 154 نشستیں ہوئیں، ان میں مجموعی طور 169 بل پیش اور 144 منظور ہوئے ہیں۔
اس دوران پنجاب اسمبلی میں 110 حکومتی بل پیش ہوئے، جن میں سے 97 منظور ہوئے جبکہ اراکین کے 59 نجی بل میں سے 47 منظور کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2 سالوں میں 129 تحریک استحقاق پیش ہوئیں،87 کمیٹی کو بھیجی اور 9 نمٹادی گئیں۔ پنجاب اسمبلی میں اس دوران 1189 تحریک التوا پیش اور 565 نمٹائی گئیں جبکہ 650 قرار دادیں پیش اور124 منظور ہوئیں۔
2 سال کے دوران پنجاب اسمبلی میں 5 ہزار 924 سوالات پوچھے گئے، جن میں 1 ہزار 494 کا جواب دیا گیا جبکہ 407 توجہ دلاؤنوٹس پیش ہوئے، ان میں سے76 کا جواب دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی میں پیش اور
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔