سرگودھا: گھریلو ملازمہ کی والدہ نے بیٹی کے ساتھ ہوئی زیادتی کا الزام واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پنجاب کے شہر سرگودھا میں سرکاری افسر کے گھر پر گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کے کیس میں مدعی مقدمہ نے الزام واپس لے لیا۔
سرگودھا کی سیشن کورٹ میں 16 سال کی گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کے کیس کی سماعت کے دوران مدعی نےعدالت میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں زیادتی کا الزام واپس لے لیا۔
متاثرہ لڑکی کے والد اور مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
ملازمہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ زیادتی کا مقدمہ غلط فہمی کی بیناد پر درج کروایا تھا، بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی یا زبردستی نہیں کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سرکاری افسر کے بھتیجے کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: زیادتی کا
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔