بھارت،شادی کے بعد شوہر کے گھر جاتے ہوئے دلہن اغوا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بہار:بھارت کا معاشرہ فلمی طرز کا معاشرہ بن گیا ہے جہاں فلمی سین روزانہ کی بنیاد پر حقیقت میں سامنے آتے ہیں،تازہ واقعے میں دلہن کو رخصت ہوکر شوہرکے گھر جاتے ہوئے راستے سے اغوا کرلیا گیا ہے۔
بھارتی ریاست بہار کے ضلع سون پور میں بندوق کی نوک پر دلہن کے اغوا کا معاملہ سامنے آیا ہے، ایک نوجوان نے الزام لگایا ہے کہ وہ گزشتہ روز کو شادی کے بعد اپنی دلہن کے ساتھ گھر واپس جا رہا تھا کہ اس کی دلہن کو بندوق کی نوک پر اغوا کر لیا گیا۔ شکایت کے بعد تربھا پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔
ماہ قبل بالانگیر ضلع کے کامکھیا نگر کے ریکو پٹیل کی منگنی بودھ ضلع کے کنٹمل راتھ پاڑا کی ایک خاتون سے ہوئی تھی، ان کی شادی طے شدہ پروگرام کے مطابق رات گئے انجام پائی۔
اگلے دن صبح ریکو اپنی بیوی کے ساتھ کامکھیا نگر واپس آرہا تھا، تاہم سون پور ضلع کے تربھہ تھانہ علاقے کے تحت ایک سنسان سڑک پر کچھ نوجوانوں نے دولہا کی گاڑی کو روکا۔
اس سے پہلے کہ کوئی رد عمل ظاہر کرتا، نوجوانوں نے بندوق تان لی اور نوبیاہتا دلہن کو لے گئے، اس واقعہ کے بعد دولہا ریکو نے تربھ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی اور گھر واپس آگئے۔
دولہے کے اہل خانہ اور عوام کو شبہ ہے کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ لڑکی کو دوسرے مرد سے محبت تھی، دولہے کے فریق نے شادی اور پارٹی کے اخراجات، لڑکی کو دیے گئے سونے کے زیورات اور کپڑے وغیرہ کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
دولہے کی بہن بلاسنی پٹیل نے کہا کہ میرے بھائی کی شادی6 ماہ قبل کنٹمل میں ہوئی تھی، ہم نے اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے تھے۔
شادی کی بارات ہفتے کو روانہ ہوئی، شادی اسی رات ہوئی، صبح چار بجے، میرا بھائی اور دیگر کئی گاڑیوں میں گھر واپس آ رہے تھے، راستے میں کچھ نوجوانوں نے ان کی گاڑی کو روکا، وہ ہماری دلہن کو بندوق اور دوسرے ہتھیار دکھاکر لے گئے اور اس کی پٹائی کی۔
بلاسنی پٹیل نے کہا اس کے پیچھے دلہن کا ہاتھ ہے، لہٰذا، ہم شادی پر خرچ کیے گئے تمام سونے کے زیورات اور کپڑوں کا معاوضہ چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے پولیس میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔