نیٹ فلکس بورڈ پر تنازع، ٹرمپ کا سوسن رائس کو برطرف کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی سیاست اور میڈیا کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بورڈ ممبر سوسن رائس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوسن رائس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کچھ کمپنیاں جو ریپبلکن دباؤ کے سامنے جھک گئیں، اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہیں نرمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، یہ معاملہ “معاف کرو اور بھول جاؤ” کا نہیں بلکہ قومی مفاد سے جڑا سنجیدہ مسئلہ ہے، بعض کارپوریٹ فیصلے امریکی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رائس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ فلکس کو فوری اقدام کرتے ہوئے انہیں بورڈ سے ہٹانا چاہیے،ان کے پاس کوئی غیر معمولی صلاحیت نہیں اور وہ محض سیاسی چالیں چلنے والی شخصیت ہیں جن کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے کمپنی سے یہ سوال بھی کیا کہ رائس کو کس مقصد کے لیے اور کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے۔
ابھی تک نیٹ فلکس یا سوسن رائس کی جانب سے صدر کے بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ فلکس
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔