Daily Mumtaz:
2026-07-24@00:46:58 GMT

اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق جہانگیری کی تقرری کالعدم

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق جہانگیری کی تقرری کالعدم

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری جج برطرفی کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا جس میں کہا گیاہے کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب احتساب سے بالاتر اور مقدس ہونا نہیں، اہلیت اور قابلیت میں نقص یا دھوکا دہی پر جج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں ہے۔

فیصلے کے مطابق ایسے شخص کو قانوناً فوری طور پر عہدے سے الگ کیا جانا چاہیے، ایسی برطرفی عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے، احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے، آزاد،اہل اور قابل اعتماد عدلیہ کے بغیر انصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے، عدالتیں ججز کی سہولت کیلیے نہیں،معاشرے کے فائدے کیلئے بنائی گئی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیاہے کہ غیر قانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے، عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو تو سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ججز کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزوہے، عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں، انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں ۔

تفصیلی فیصلہ کے مطابق وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کر سکتا، درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی، غلط تقرری کو بعد کی انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں کیا جاسکتا، عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنےوالا شخص ہی سنبھال سکتا ہے، طارق جہانگیری کی بطورجج تقرری کالعدم قراردی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ