بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس مانگنا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے، جسٹس محسن اختر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
محسن اختر کیانی نے قرار دیا ہے کہ بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ دیا ہوا تحفہ واپس مانگنا مناسب نہیں، یہ تو تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، ایسی کوئی روایت موجود ہے اور نہ ہی مذہبی تعلیمات اس کی اجازت دیتی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری محمد شعبان کی درخواست پر سماعت کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے۔ درخواست گزار نے فیملی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ علیحدگی کے بعد سابقہ اہلیہ سے زیورات واپس دلائے جائیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ازدواجی زندگی میں دیا گیا تحفہ، تحفہ ہی شمار ہوتا ہے اور اسے بعد ازاں واپس لینے کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نظر نہیں آتی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیملی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو بعد میں سنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔