اسلام آباد پولیس میں7 ہزار6 سو اہلکار شامل کیے جانے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال مزید مؤثر بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر سات ہزار چھ سو اہلکار فورس میں شامل کیے جائیں گے، اس اقدام کا مقصد بڑھتی آبادی، سیکیورٹی چیلنجز اور جدید تقاضوں کے مطابق پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد پولیس میں اضافی نفری کی ضرورت کے پیش نظر بھرتیوں کا معاملہ کچھ عرصے سے زیرِ غور تھا اور منظوری کے لیے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کی گئی تھی۔ حکومتی سطح پر جائزے کے بعد بھرتیوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے جس کے بعد متعلقہ محکموں نے عملی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے،نئی بھرتیوں سے نہ صرف گشت اور جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ تحقیقاتی اور انسدادِ دہشت گردی شعبوں کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔
اس پیش رفت کی تصدیق انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ پاکستان نے باضابطہ طور پر بھرتیوں کی منظوری جاری کر دی ہے اور جلد اشتہارات اور بھرتی کا طریقہ کار بھی سامنے آ جائے گا، نئی نفری کی شمولیت سے پولیس کی فیلڈ موجودگی بڑھے گی اور شہریوں کو زیادہ محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
آئی جی پولیس کے مطابق جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو جدید تربیت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور شہری دوست پولیسنگ کے اصولوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ فورس پیشہ ورانہ معیار کے مطابق خدمات انجام دے سکے، حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اسلام آباد پولیس پر اعتماد کا اظہار ہے اور اس سے ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسلام آباد پولیس کے مطابق
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ