شہباز شریف2 روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
دوحہ: (ویب ڈیسک) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دوحہ کے کنگ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت وزارت خارجہ امور ڈاکٹر محمد بن عبد العزیز الخلیفی، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر محمد عامر اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔
اپنے دورہ قطر کے دوران وزیراعظم امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دو طرفہ ملاقات کریں گے جس میں اقتصادی تعاون، توانائی کی شراکت داری اور عوام سے عوام کے تبادلوں کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔
دونوں فریق تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں اشتراک کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔