والد کی خواہش :دلہن سسرال آئی ہیلی کاپٹر میں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہریانہ: بھارتی ریاست ہریانہ کے تواڈو، نوح میں ایک انوکھی اور یادگار شادی دیکھی گئی، ایک بیٹی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے سسرال کے لیے روانہ ہوئی، شادی کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوا۔
پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان یہ واقعہ علاقے میں موضوع بحث بن گیا ہے۔
گروگرام کے کدر پور کے رہنے والے دولہا روہت ڈگر کی شادی کی بارات تواڈو کے جاٹواڑا محلے میں پہنچی۔ روہت ڈگر نے دیویندر کی بیٹی سواتی سے شادی کی۔
دلہن گزشتہ صبح تقریباً 11 بجے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے سسرال کے لیے روانہ ہوئی۔
ہیلی کاپٹر تواڈو اناج منڈی کمپلیکس میں اترا، جہاں پولیس کی مکمل موجودگی اور فائر بریگیڈ کی گاڑی تعینات تھی۔
دولہا روہت ڈگر نے بتایا کہ ان کے والد کی طویل عرصے سے خواہش تھی کہ ان کی بہو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے سسرال پہنچے۔
اس خواب کو پورا کرتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانے کا فیصلہ کیا۔
روہت نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دلچسپ لمحے سے بے حد خوش ہیں، دلہن سواتی نے بھی ہیلی کاپٹر کی روانگی پر خوشی کا اظہار کیا۔
اس نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ایسا سسرال ہے، جہاں وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جا رہی ہے۔ پورا خاندان اس تجربے سے خوش ہے اور ان کی آگے کی خوشگوار زندگی کی خواہش کر رہا ہے۔
آس پاس کے دیہات کے سینکڑوں لوگ ہیلی کاپٹر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے، بہت سے لوگوں نے ہیلی کاپٹر کے ساتھ تصویریں بنوائیں، اس انوکھے نظارے کو قید کیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر کے ذریعے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ