امن بلوچستان، استحکام پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2026 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور صوبے میں پائیدار امن ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ریاست کی مجموعی پالیسی کا اظہار ہے۔
اس بیان میں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن عزم جھلکتا ہے تو دوسری طرف بلوچستان کے عوام کو امن کے قیام کا سب سے اہم شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی ہے اور آج بھی اکثریت امن، تعلیم، روزگار اور ترقی کی خواہاں ہے۔ اسی لیے ریاست کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ عوام کو قومی ترقی کے حقیقی شریک کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔
بلوچستان محض پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ساحلی امکانات، سرحدی محل وقوع، تہذیبی تنوع اور قومی سلامتی کے تناظر میں ریاست کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں پیش آنے والا ہر واقعہ محض ایک مقامی انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات قومی سیاست، داخلی سلامتی، معیشت، سفارت کاری اور ریاستی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے واقعات، جن میں اعلیٰ عسکری قیادت کا بلوچستان کے بارے میں دوٹوک مؤقف، مستونگ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی اور اسی ضلع میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر مہلک حملہ شامل ہیں، اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتے ہیں کہ بلوچستان اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاستی رٹ، قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد، ترقیاتی حکمت عملی اور قومی یکجہتی کو بیک وقت مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
مستونگ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی، جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور گرفتار کیے گئے جب کہ مبینہ طور پر خودکش حملہ آور بھی پکڑے گئے، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک اب بھی صوبے کے مختلف حصوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کارروائیاں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ بڑے سانحات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید انسداد دہشت گردی کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ ردعمل کے بجائے پیشگی معلومات، موثر نگرانی، مربوط ادارہ جاتی تعاون اور تیز رفتار کارروائی کے ذریعے خطرات کا سدباب کیا جائے، اگر خفیہ معلومات کو بروقت عملی کارروائی میں تبدیل کیا جائے تو نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوتا ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے، مالی ذرائع، رابطہ کاری اور سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔اس کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
سہولت کاروں کے ساتھ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اطلاعات اس رجحان کی عکاسی کرتی ہیں کہ شدت پسند عناصر روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں صرف سرحدی نگرانی یا عسکری آپریشن کافی نہیں بلکہ سماجی نگرانی، مقامی سطح پر معلومات کے تبادلے، تعلیمی اداروں میں شعور کی بیداری، مذہبی و سماجی قیادت کے مثبت کردار اور جدید تکنیکی ذرائع سے نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انتہاپسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔
دوسری جانب مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ اور ان کی شہادت ایک انتہائی تشویشناک واقعہ ہے۔ کسی جج کو نشانہ بنانا دراصل انصاف کے پورے نظام کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ عدالتیں ریاستی ڈھانچے کا وہ ستون ہیں جہاں عام شہری کو قانون کے ذریعے تحفظ اور انصاف کی امید وابستہ ہوتی ہے، اگر انصاف فراہم کرنے والے خود عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں تو اس کے اثرات صرف عدلیہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی عملداری پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو محض ایک دہشت گرد حملہ قرار دینا کافی نہیں بلکہ اسے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔وکلا برادری کی جانب سے احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ اس بات کا اظہار ہے کہ انصاف سے وابستہ طبقہ بھی بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں شدید تشویش رکھتا ہے۔ اس احتجاج کا مقصد صرف افسوس کا اظہار نہیں بلکہ ریاست کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ عدالتی نظام کی موثر حفاظت قومی سلامتی کے ایجنڈے کا مستقل حصہ ہونی چاہیے۔ ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیشی افسران اور گواہوں کا تحفظ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں انصاف کا عمل اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب اس سے وابستہ تمام افراد خود کو محفوظ محسوس کریں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کا مسئلہ محض داخلی نوعیت کا نہیں۔ سرحدی جغرافیہ، غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ، منظم جرائم، علاقائی کشیدگی اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل اس پیچیدہ صورت حال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ریاستی ادارے بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ بعض تخریبی عناصر کو سرحد پار سے معاونت اور سہولت میسر آتی ہے، اگرچہ ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر سفارتی سطح پر موثر پیروی ناگزیر ہے، تاہم داخلی سطح پر سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ داخلی اور خارجی حکمت عملی میں مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر سطح پر محدود کیا جا سکے۔بلوچستان کے نوجوان اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، اگر انھیں معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، تحقیق، کاروباری معاونت اور روزگار کے مواقع میسر آئیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بے روزگاری اور محدود مواقع نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں، جب کہ امید، ہنر اور باعزت روزگار انھیں مثبت قومی کردار کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی اداروں، فنی تربیتی مراکز اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسی جامع حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے جو بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑ دے۔ بلوچستان میں سیاسی مکالمہ بھی امن کے قیام کا ایک اہم ستون ہے۔ جمہوری اداروں کا استحکام، آئینی عملداری، سیاسی جماعتوں کی ذمے دارانہ سیاست اور عوامی نمائندوں کا موثر کردار ایسے عناصر ہیں جو ریاست اور معاشرے کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا فطری حصہ ہے، لیکن اسے تشدد، نفرت یا قانون شکنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی وحدت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے تمام طبقات کو اپنی رائے کے اظہار اور مسائل کے حل کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
اطلاعاتی محاذ بھی موجودہ حالات میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں خوف، افواہوں، گمراہ کن معلومات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ذمے دار صحافت، مستند معلومات کی بروقت فراہمی، شفاف ابلاغ اور حقائق پر مبنی قومی بیانیہ ناگزیر ہے۔ میڈیا، جامعات، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ حقائق کی بنیاد پر تعمیری مکالمہ فروغ پائے۔بلوچستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، عدلیہ، سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مقامی سماجی قوتیں ایک جامع قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل، عدالتی نظام کا تحفظ، عوامی اعتماد کی بحالی، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل، نوجوانوں کی شمولیت، مقامی حکومتوں کو فعال بنانا، احتساب کے مؤثر نظام کو مضبوط کرنا اور قانون کی بلاامتیاز عملداری ایسے ستون ہیں جن پر دیرپا امن کی مضبوط عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان میں امن صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی مستقبل کا سوال ہے، اگر یہ خطہ محفوظ، خوشحال اور مستحکم ہوگا تو قومی معیشت، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بین الاقوامی روابط اور داخلی یکجہتی سب کو تقویت ملے گی۔ اس کے برعکس اگر دہشت گردی، خوف اور عدم استحکام کو جگہ ملتی رہی تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کو موثر حکمرانی، آئینی بالادستی، سماجی انصاف، سیاسی ہم آہنگی، معاشی شمولیت اور عوامی اعتماد کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ یہی جامع حکمت عملی بلوچستان کو پائیدار امن، مضبوط اداروں، متوازن ترقی اور قومی یکجہتی کی نئی منزل تک لے جا سکتی ہے، اور یہی پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی حقیقی ضمانت بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف ہے کہ دہشت گرد بلوچستان کے نہیں بلکہ حکمت عملی کا اظہار کرتے ہیں ہیں بلکہ کرنے کی ہیں کہ کیا جا
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں