ایران کا خطے کی ریاستوں کے شہریوں کو امریکی تنصیبات سے 500 میٹر دور رہنے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2026 GMT
ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے کے ممالک کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی افواج کے مراکز اور تنصیبات سے کم ازکم 500 میٹر دور رہیں۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ خطے کی ریاستوں کے شہری ان عمارتوں سے کم از کم 500 میٹر دور رہیں جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی فوجی خفیہ رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی افسران اور فوجی اہلکار اپنے فوجی اڈوں کو چھوڑ کر شہری علاقوں میں واقع عمارتوں میں منتقل ہو گئے ہیں تاکہ وہاں سے فوجی کارروائیوں کی ہدایت دے سکیں۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ایسے مقامات سے فوری طور پر کم از کم 500 میٹر کا فاصلہ اختیار کریں۔
امریکی حملوں کے حوالے سے پاسداران انقلاب نے بتایا کہ امریکا نے ایران میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں پل، ماہی گیری کی بندرگاہیں، کشتیاں، گاڑیاں اور ریلوے نظام شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب نے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔