بلوچستان: کچی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،شدید فائرنگ کے تبادلے میں 27 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کچی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 27 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کا گھیراؤ کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے اسلحہ، گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔ مارے گئے دہشت گرد فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ مارے گئے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔
سعودی عرب نے افزودہ یورینیم فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔