پریم یونین فیصل آباد کی ریلوے کی نجکاری کے خلاف ریلی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
ریلوے پریم یونین نے حکومت کی طرف سے ریلوے کی نجکاری کے متوقع فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ’’ریلوے کی نجکاری، ملک سے غداری‘‘ کے سلوگن کے تحت ملک بھرکے ریلوے اسٹیشنزپراحتجاجی ریلیوں کاآغاز کردیا۔ فیصل آباد میں بھی ریلوے ملازمین نے اسٹیشن پر چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر پروفیسر محبوب الزماں بٹ، میاں طاہر ایوب، یاسر کھارا ایڈووکیٹ، ظہیر الدین بابر، نور الدین، کاظم فاروق گل، بائو طاہر محمود، ساجد عمران، ملک منظور، باسط شفیق، محمد کاشف، رائے شہباز، رانا زاہد محمود ودیگر کی قیادت میں ریلی کا انعقاد کیا۔ ملازمین نے ریلوے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدیدنعرہ بازی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہاکہ پاکستان کے سب سے بڑے رفاعی و فلاحی ادارے کی نجکاری ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے، کسی مائی کے لعل کو ریلوے کی نجکاری کی اجازت نہیں دیں گے، ملازمین ریلوے کو بچانے کے لیے اپنا خون بہا دیں گے مگر کسی کو بھی نجکاری کے نام پر ریلوے کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے۔ ریلوے ملازمین کے جذبہ کوشکست نہیں دی جاسکتی۔ پریم یونین نے حافظ سلمان بٹ مرحوم کی قیادت میں ریلوے ملازمین کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے ہر حالت میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزارت ریلوے کی نااہلی کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ حکومت کو ریلوے کاکیس صحیح طریقہ سے پیش نہیں کرسکی جس کی وجہ سے حکومت نے ریلوے کو نان ایسینشل کیٹگری میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعظم سے اپیل ہے اس فیصلے پردوبارہ نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کی کھربوں روپے کے اثاثہ جات کو لوٹنے کی تیاری کی جارہی ہے، ریلوے قومی وحدت کا ادارہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ریلوے نے 88 ارب سے زائد ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے جو پچھلے مالی سال سے 40 فیصد زائد آمدن ہے ۔ ریلوے کو مالی سال کے آغاز میں حکومت سے 73 ارب آمدن کا ٹارگٹ ملا تھا۔ اتنے منافع بخش ادارے کی نجکاری ملک کی سا لمیت کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کے بجائے مزدوروں کے حوالے کردیا جائے،کسی بھی پرائیویٹ کمپنی سے زیادہ منافع فراہم کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ نئے پنشن اور گریجوٹی کے قانون کو ختم کرکے پرانانظام ہی بحال کیا جائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ضلعی امیرمحبوب الزماںبٹ نے کہاکہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جدوجہد سے عوام کے اندر نیا حوصلہ اور روشن مستقبل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایماندار اور نڈر قیادت ہی مزدوروں کے مسائل حل کرواسکتی ہے، جماعت اسلامی ریلوے مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن عوامی توقعات پر پورا اتریں گے اور مزوروں کو ان کا حق لے کردیں گے۔ وزارت ریلوے نے ریکارڈ آمدنی کے باوجوداپنی نااہلی سے ریلوے کو بسترمرگ پر پہنچا دیا ہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری نے عوام سے راتوں کی نیند چھین لی ہے، حکومت نے بیڈ گورننس کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، عوام نے موجودہ اور سابق حکمرانوںسے جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی تھیں وہ مایوسی میں بدل گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریلوے کی نجکاری کرتے ہوئے نجکاری کے ریلوے کو نے کہاکہ انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔