ڈیرہ اسماعیل خان میں انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ ظالم سے نفرت اور مظلوم سے محبت کرنے والا ہر انسان انقلاب اسلامی ایران سے عقیدت رکھتا ہے، امریکہ و اسرائیل جیسے جابر و غاصب ممالک کے خلاف قیام اور استقامت کا جذبہ صرف اور صرف انقلاب اسلامی سے ملتا ہے۔ یہی انقلاب اب ہر انقلاب کی بنیاد بن چکا ہے۔ وقت کی ساعتیں پانی کی موجوں کی مانند تیزی سے گزر رہی ہیں، آج انقلاب اسلامی ایران برپا ہوئے پورے چھیالیس سال ہوچکے ہیں، تمام تر ملکی، مقامی اور عالمی سازشوں، پابندیوں، زیادتیوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود انقلاب اسلامی پوری آب و تاب اور جرات و استقامت سے میدان میں موجود ہے۔ رپورٹ: سید عدیل زیدی
انقلاب اسلامی ایران کو وقوع پزیر ہوئے 46 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، تاہم یہ انقلاب نہ صرف اپنی شان و شوکت کیساتھ قائم و دائم ہے بلکہ اس کی کرنیں ہرگزتے دن کیساتھ ساتھ مظلومین جہاں، بالخصوص مسلمانان عالم کیلئے مددگار و معاون ثابت ہورہی ہیں، استعماری طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود انقلاب اسلامی ایران کے فیوض و برکات سے عالم بشریت فیضیاب ہورہی ہے۔ انقلاب اسلام کی 46ویں سالگرہ برادر اسلامی ملک ایران میں ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک میں بھرپور طریقہ سے منائی جاتی ہے اور رہبر کبیر انقلاب حضرت امام خمینی رح کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سلسلہ میں تقاریب، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں منعقدہ سالانہ اجتماع کی دوسری نشست کو ایران انقلاب اسلامی کی سالگرہ سے منسوب کیا گیا۔
اس پروگرام کے مہمان خصوصی پرنسپل جامعہ المصطفیٰ العالمیہ اسلام آباد علامہ انیس رضا خان تھے، جبکہ پرنسپل جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ اور شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر، مہتتم اعلیٰ جامعۃ المنتظر لاہور علامہ محمد افضل حیدری اور پرنسپل جامعہ المصطفی العالمیہ علامہ انیس رضا خان نے انقلاب اسلامی ایران، امام خمینی رح کی شخصیت، انقلاب اسلام میں ایرانی عوام کے کردار اور انقلاب اسلامی ایران کے آثارو ثمرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے پاکستان کی غیور عوام کی طرف سے رہبر معظم اور ایران کی غیور عوام کی خدمت میں قومی دن کی خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعادت مند اور باشعور ایرانی عوام رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی رہنمائی میں انقلاب اسلامی ایران کا بھرپور انداز میں دفاع کر رہے ہیں، یہ حریت پسندوں کے لئے عالمی دن اور استعمار اور طاغوت کی نابودی کا دن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران کے رہبر و قائد امام خمینی رح کے حوالے سے ماضی میں منفی تبصرے کرنے والے آج انقلاب اسلامی کی قیادت کی عالمی حیثیت حاصل ہونے کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔ رہبر انقلاب حضرت امام خمینی رح کی رحلت کے بعد انقلاب اسلامی ختم ہونے کی پیشین گوئیاں کرنے والے اب رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای کی بابصیرت قیادت دیکھ کر اپنی پیشین گوئیوں پر نادم نظر آرہے ہیں۔ تہران میں چند شرپسندوں کے اجتماعات دیکھ کر انقلاب اسلامی کے خاتمے کی باتیں کرنے والے لوگ آج پورے ایران پر انقلاب پسندوں کے غلبے پر حیران ہو چکے ہیں۔ رہبر معظم کا وجود ہی انقلاب اسلامی کی ضمانت ہے، جب تک رہبر معظم موجود ہیں کوئی بھی قوت یا طاقت انقلاب اسلامی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آج انقلاب اسلامی ایران برپا ہوئے پورے چھیالیس سال ہوچکے ہیں، انقلاب اپنی نصف صدی مکمل کرنے کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے لیکن پھر بھی انقلاب میں کسی قسم کی کمزوری اور شکستگی نہیں آرہی بلکہ انقلاب روز بروز جوان ہوتا جا رہا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ ظالم سے نفرت اور مظلوم سے محبت کرنے والا ہر انسان انقلاب اسلامی ایران سے عقیدت رکھتا ہے، امریکہ و اسرائیل جیسے جابر و غاصب ممالک کے خلاف قیام اور استقامت کا جذبہ صرف اور صرف انقلاب اسلامی سے ملتا ہے۔ یہی انقلاب اب ہر انقلاب کی بنیاد بن چکا ہے۔ وقت کی ساعتیں پانی کی موجوں کی مانند تیزی سے گزر رہی ہیں، آج انقلاب اسلامی ایران برپا ہوئے پورے چھیالیس سال ہوچکے ہیں، تمام تر ملکی، مقامی اور عالمی سازشوں، پابندیوں، زیادتیوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود انقلاب اسلامی پوری آب و تاب اور جرات و استقامت سے میدان میں موجود ہے۔ علامہ انیس رضا خان نے کہا کہ انقلاب اسلامی کو محدود رکھنے کے خواب دیکھنے والے اب ہر سال انقلاب کی وسعت دیکھ کر بے خواب ہوتے رہتے ہیں۔ انقلاب اسلامی کو دوسرے ممالک میں امپورٹ ہونے سے روکنے کا شور پچانے والے اپنی آنکھوں سے انقلاب اسلامی دوسرے ممالک میں نفوذ حاصل کرتا دیکھ رہے ہیں۔ انقلاب اسلامی کو ایک مسلک سے جوڑنے والے اب اسے امت مسلمہ کا مشترکہ انقلاب بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں، انقلاب اسلامی پر فرقہ واریت کا الزام لگانے والے خود دیکھ رہے ہیں کہ انقلاب اسلامی اب وحدت امت کی علامت بن چکا ہے۔
انقلاب اسلامی آثار و برکات کی نشست کے آخر میں درج ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں:
انقلاب اسلامی کی بھرپور حمایت و تائید کے ساتھ چھیالیسویں سالگرہ کی رہبر معظم اور ایران کی غیور عوام کو خراج تحسین و مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ غزہ پاکستان پاراچنار کے محصورین و مظلومین عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر راستوں کی بندش اور دیگر مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے اور قیام امن کی فضا کو بحال کیا جائے۔ ٹرمپ کے جاہلانہ بیان کی بھرپور مذمت کے ساتھ مظلومین غزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بیت مقدس اور فلسطینوں کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کوٹلی امام حسین علیہ السلام کی اراضی کے مسئلہ کو شیعہ عمائدین کی مشاورت کے ساتھ حل کرکے عزاداری و دیگر شیعہ اجتماعات کے لئے اہل تشیع کے حوالے کیا جائے۔ سکیورٹی اداروں کی قیام امن کے لئے گرانقدر خدمات اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ استحکام پاکستان، ترقی و خوشحالی اور وطن عزیز کی سربلندی کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی ایران آج انقلاب اسلامی انقلاب اسلامی کی دیکھ رہے ہیں علامہ محمد کہ انقلاب کرتے ہیں ایران کی کے ساتھ کہا کہ چکا ہے
پڑھیں:
اسلامی اقدار اور جدید دور
آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔