منگل کے روز کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کیا گیا جس میں تقریباً 400 افراد سوار تھے جنہیں دہشتگردوں نے یرغمال بنالیا۔ اس وقت فورسز کی جانب سے مذکورہ ٹرین کے مسافروں کو باحفاظت دہشتگردوں سے رہا کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے اور 100 سے زائد مسافر چھڑالیے گئے ہیں۔

تاہم یہ واقعہ دنیا میں مسافر ٹرینوں کو ہائی جیک کرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل دنیا بھر میں ٹرین ہائی جیک کرنے کے 5 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ 1923 میں لینچینگ چین میں پیش آیا جب سابق فوجیوں کے ’شنگھائی گرین گینگ‘نے ایک ٹرین کو 25 مغربی ممالک کے شہریوں اور ایک امریکی سنیٹیر کی بیٹی  سمیت  300 مسافروں کے ساتھ ہائی جیک کیا۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان: جعفر ایکسپریس کو آزاد کرانے کے لیے فورسز کا آپریشن جاری، 155مسافر چھڑا لیے، 27 دہشتگرد ہلاک

ان مسافروں کو بعد میں 85 ہزار ڈالر تاوان کے بدلے رہا کیا گیا۔ اسی طرز کی کارروائیوں میں انڈونیشیا کے ’ملوکنز محاذ‘ نے 2 بار،  1975  اور پھر 1977 میں ہالینڈ میں الگ ملک کے قیام کے مطالبے پر ٹرینیں ہائی جیک کیں۔

بھارت میں پہلی بار 2009 میں ماؤسٹ علیحدگی پسندوں نے جنگل محل کے قریب بھونھانیسر راجدھانی ایکسپریس ٹرین ہائی جیک کی۔ 2013 میں رائے پور کے قریب سرونا ریلوے سٹیشن کے قریب جان ستابدی ایکسپریس بھی ہائی جیک کرلی گئی تاکہ اس کے ذریعے اپنے ایک گرفتار ساتھی ہپندرا سنگھ کو رہا کرایا جاسکے۔

کل بلوچستان میں پیش آنے والے جعفر ایکسپریس کے واقعے کو دنیا میں ٹرینوں کے ہائی جیک کرنے کا چھٹا اہم اور پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیکن دنیا بھر میں مسافر ٹرینوں کو صرف ہائی جیک ہی نہیں کیا گیا بلکہ متعدد بار انہیں دہشتگردی کی دوسری کارروائیوں کا بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ خود کش دھماکا: بلوچستان حکومت کا 3 روزہ سوگ کا اعلان، ٹرین آپریشن 4 روز کے لیے معطل

1960 تک ٹرین کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے کے 31 واقعات ہوئے ہیں، امریکی ریاست سینٹ جوزیف میسوری میں 1861 میں ریل پر دہشتگرد حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، 1875 میں ہنگری میں ایک ایسے ہی دہشتگرد حملے میں 9 افراد جبکہ 27 اپریل 1884 کو اسپین میں ہونے والے ٹرین پر دہشتگرد حملے میں 59 افراد ہلاک ہوئے۔

1887 میں برطانیہ میں ٹرین حملہ میں 2 افراد ہلاک ہوئے، 1884 سے 1905 تک امریکا میں ٹرین پر 3 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 56 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔

‎1920 کی دہائی میں ہندوستان میں ٹرین پر حملوں کے دوران 67 افراد ہلاک ہوئے، 1926 میں جرمنی میں ہونے والی دہشتگردی میں 21، 1928 میں میانمار میں 54، 1931 میں ہنگری میں 22، 1933 میں اسپین میں 13، 1939 ہندوستان کے حاضر باغ کیں ہونے والے واقعہ میں 21، 1939 میں امریکا میں ہونے والے واقعہ میں 24 افراد ہوئے۔ اسی سال پولینڈ مین ریل میں دہشتگردی کے واقعے میں 20 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

‎1940 اور 1942 میں ہندوستان میں ہونے والے ٹرینوں میں ہونے والے شرپسندی کے واقعات میں 56 افراد ہلاک ہوئے، 1940 میں چین میں ایک واقعہ میں 100 افراد جان سے چلے گئے، 1947 میں برطانیہ میں 3 واقعات ہوئے جن میں 11 افراد ہلاک ہوئے، اسی سال پاکستان، بھارت اور چین میں دہشتگردی کے واقعات میں کم و بیش 4 ہزار افراد مارے گئے، 1948 میں پاکستان کے شہر گجرات میں ہونے والے واقعے میں 1300 سے 1600 اموات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ اسی سال برطانیہ میں مزید 2 واقعات میں 68 افراد ہلاک ہوئے، 1949 میں جاپان ان واقعات کا شکار بنا اور 2 واقعات میں 9 افراد ہلاک ہوئے، 1953 میں موجودہ ویتنام میں ٹرین میں دہشتگردی کے واقعے میں 100 سے زائد افراد مارے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین حادثے کا شکار

‎1960 سے 1966 تک 5 واقعات ہوئے، جن میں 3 بھارت، ایک اسپین اور ایک فرانس میں ہوا جن میں 200 کے فریب افراد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ 1966 سے 1979 کے دوران برطانیہ، اسپین، بھارت، مصر، اور سویت یونین سمیت 6 ممالک میں ٹرینوں میں دہشتگردی کے 11 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں 39 افراد کی ہلاکت ہوئی اور متعدد زخمی ہوئے۔

‎1979 سے 1986 تک برطانیہ، کمبوڈیا، اٹلی، فرانس، ناروے، بلغاریہ، بنگلادیش اور پیورو سمیت 8 ممالک میں 10 ایسے واقعات میں 250 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، 1986 سے 1996 تک برطانیہ، بھارت، انگولا، مصر، آزربائیجان،، جاپان، فرانس، امریکا اور سری لنکا سمیت 9 ممالک میں 13 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں اموات کی تعداد 600 کے قریب رہی۔

یہ بھی پڑھیے: دبئی اور ابوظہبی کے درمیان بلٹ ٹرین چلنے کے لیے تیار، رفتار کیا ہوگی؟

‎2000 سے 2009 تک فلپائن، انگولیا، بھارت، روس، اسپین، برطانیہ اور سری لنکا سمیت 7 ممالک میں ٹرینوں میں دہشتگردی کے 29 واقعات ہوئے جن میں کم و بیش ایک ہزار افراد لقمہ اجل بنے، 2010 سے 2020 تک روس، بھارت، بیلاروس، چین، فرانس، ترکیہ، بلجئیم، جرمنی، امریکا، نیدرلینڈ اور ہانک کانگ سمیت 11 ممالک کی ریل ویز دہشتگردی کا نشانہ بنیں جن میں 300 کے قریب اموات ہوئیں۔

‎18 جنوری 2022 اور 9 نومبر 2024 کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ٹرین دہشتگردی کا نشانہ بنیں جن میں 27 افراد لقمہ اجل بنے، 2022 میں نائجیریا میں اس طرح کے واقعہ میں 8، 2024 میں بنگلہ دیش میں 4 جبکہ اسی سال اسرائیل میں 9 افراد ٹرینوں میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے مارے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

train attack ٹرین حملہ جعفر ایکسپریس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرین حملہ جعفر ایکسپریس دہشتگردی کا نشانہ میں دہشتگردی کے متعدد زخمی ہوئے افراد ہلاک ہوئے جعفر ایکسپریس میں ہونے والے ہائی جیک کرنے دہشتگرد حملے واقعات ہوئے ہائی جیک کی واقعات میں واقعہ میں ممالک میں کے واقعات کے قریب نے والے کیا گیا اسی سال کے لیے

پڑھیں:

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔

انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل