دہشت گردانہ حملوں کی لہر، پنجاب یونیورسٹی ہاٹ سپاٹ قرار
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ جامعہ پنجاب کے ہاسٹلز میں رہنے والے تمام افراد طالبعلم بھی نہیں، دہشتگردی سے بچنے کیلئے ہاسٹلز سے متعلق میکانزم تشکیل دیا جائے، یونیورسٹی میں زیرتعلیم دیگر صوبوں کے طلباء کا ریکارڈ چیک کرایا جائے، ہاسٹلز میں طلباء کے علاؤہ مقیم افراد کے کوائف کی تصدیق کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ دہشت گردانہ حملوں کی حالیہ لہر کے پیش نظر جامعہ پنجاب کے ہاسٹلز، رہائشی کوارٹرز اور کیفے ٹیریاز کو ہاٹ سپاٹ قرار دیدیا گیا ہے۔ ہاسٹلز میں مقیم طلباء کی پروفائلنگ بارے محکمہ داخلہ کی کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ حکومت کو بھجوا دی ہے۔ ذرائع محکمہ داخلہ کمیٹی کے مطابق یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلباء اور دیگر رہائشیوں کا مستند ریکارڈ موجود نہیں، طلباء کو ملنے والے مہمانوں کی تصدیق کا بھی کوئی میکانزم موجود نہیں، دیگر صوبوں سے آنیوالے طلباء کا سابقہ ریکارڈ بھی حاصل نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہائی پروفائل اور مشتبہ طلباء کے تنظیمی تعلقات سکیورٹی چیک میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ جامعہ پنجاب کے ہاسٹلز میں رہنے والے تمام افراد طالبعلم بھی نہیں، دہشتگردی سے بچنے کیلئے ہاسٹلز سے متعلق میکانزم تشکیل دیا جائے، یونیورسٹی میں زیرتعلیم دیگر صوبوں کے طلباء کا ریکارڈ چیک کرایا جائے، ہاسٹلز میں طلباء کے علاؤہ مقیم افراد کے کوائف کی تصدیق کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہاسٹلز میں
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز