مصری جنگلی بلے کا اسرائیلی فوجیوں پر حملہ، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
مصری جنگلی بلے نے اسرائیلی سرحد پر تعیناتی صہیونی فوجیوں پر حملہ کردیا، متعدد فوجی زخمی ہوگئے۔
دو روز قبل اسرائیلی میڈیا نے ایک خبر دی تھی کہ شکاری مصری لینکس (جنگلی بلّے ) نے مصر سے ملحقہ سرحد پر اسرائیلی فوج کے متعدد سپاہیوں پر حملہ کرکے انہیں مختلف نوعیت کے زخم لگائے۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مصری سرحدی علاقے خاص طور پر جبل حریف کے علاقے میں فوجیوں کو جانوروں کے مشتبہ کاٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک نایاب شکاری جانور لینکس کو نیچر اینڈ ریزرو اتھارٹی کے ایک انسپکٹر نے پکڑ لیا، انسپکٹر اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچا تھا۔ اسرائیلی میڈیا نے مزید کہا کہ ریزرو انسپکٹر نے جانور کو پکڑا اور یہ مصری لنکس نکلا اسے جانچ کیلئے خصوصی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
واضح رہے کہ لینکس یا جنگلی بلا درمیانے درجے کا شکاری ہے، اس کی لمبائی 60 سے 130 سینٹی میٹر کے درمیان ہوتی ہے، اس کی رفتار کا انحصار اپنے شکار کی رفتار پر ہوتا ہے اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔
لنکس ریگستان میں رہتا ہے، یہ کم بارش والے علاقوں کو ترجیح دیتا ہے، یہ خرگوش، چوہے اور پرندوں جیسے چھوٹے جانوروں کو شکار کرنے پر انحصار کرتا ہے۔
مصر سے اسرائیل میں جانوروں کی دراندازی نے 2022ء میں اسرائیلیوں میں بہت سے خدشات کو جنم دیا، اسرائیلی سائنسدانوں نے ملک کے جنوب میں واقع وادی عرب علاقے میں مصری چھپکلی کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ اس سے ماحولیاتی نظام کو خطرہ ہے۔
اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی مصری گیکوز اور چھپکلیوں کا پتہ لگانے میں وادی عربہ کے مقامی باشندوں سے مدد طلب کر رہی ہے جو خطے میں پھیلنا شروع ہوگئے ہیں اور خوفناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور زرعی فصلوں کو کھارہے ہیں۔
تل ابیب یونیورسٹی میں سائنس کے پروفیسر شائی میری نے کہا کہ مصری چھپکلی اور گیکو کسی بھی چیز کو کھاسکتے ہیں اور کسی بھی مزاحمت پر قابو پاسکتے ہیں، وہ کسی بھی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔