سنا ہے وزیر اعظم آج حاتم طائی کی قبر پر لات مار رہے ہیں، وزیراعظم 65روپے یونٹ بجلی پیدا کر کے چھ روپے سستی رہے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہریں قومی منصوبہ نہیں یہاں تماشا لگایا جا رہا ہے۔ کراچی۔گمبٹ اور دیگر ہسپتالوں میں پنجاب سے لوگ علاج کرا رھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 65 روپے یونٹ بجلی پیدا کر کے 6 روپے کمی کی جا رہی ہے، کسان تباہ ہو گا تو ملک تباہی ہو گا۔یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنا ہے وزیر اعظم آج حاتم طائی کی قبر پر لات مار رہے ہیں، ملکی معیشٹ جو کھڑا کرنا ہے تو ایگرو بیسڈ اکانومی لانا پڑیگی، کپاس ہماری ضرورت سے کم پیدا ہو رہی ہے، زراعت پر ٹیکس پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

چودھری منظور نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں کسانوں کو بہترین سپورٹ پرائس دی، وہ ایک میٹنگ تھی جس کے منٹس کو غلط طریقے سے پھیلایا جا رھا ہے، صدر مملکت صرف پارلیمنٹ کے بل اور آرڈیننس کی منظوری دیتا ہے، پاکستان میں چار پانچ برس کے بعد زیادہ پانی آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مالیہ میں دس گنا اضافہ کر دیا ہے۔چودھری منظورچودھری منظور سسٹم میں پانی موجود نہیں، جس صوبے کا مسئلہ ہے اسکے لوگ بات کریں، آپ نے نان ایشو کھڑا کیا۔پظلے دو صوبوں کے حالات خراب ہیں اب تیسرے میں کرنا چاہتے ہیں، یہ منصوبہ بالکل فزی ایبل نہیں۔کون ڈی نہر بند کر رھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی یہ نہیں ہونے دیگی، ہم ہر جگہ کاشتکاروں کیساتھ کھڑے ہونگے۔ وزیر اعظم سے سوال ہے کہ سندھ اور دیگر صوبوں کے مطالبے کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں بلا رھے؟

آپ چولستان میں کتنے تالاب بنائینگے۔وہاں کائی جم جائیگی۔ آپ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر پنجاب کے چھوٹے کاشتکاروں کا قتل کر رھے ہیں، ماہرین بھی حیران ہیں کہ یہ کیا ہو رھا ہے؟چودھری منظور جو بھی نہر نکالتے ہیں اس کا چودہ فیصد ضائع ہو جاتا ہے جبکہ چولستان نہر کا چالیس فیصد ضائع ہونے کا خدشہ یے۔

یہ پنجاب اور چولستان کا مسئلہ ہے۔ابمپ اوکاڑہ سسہءوسل،رحیم۔یار خان سب متاثر ہونگے چودھری منظور یہ انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جسمیں ریورس انجینئرنگ کر رھے ہیں۔

اس پانی کی کمی کو تمام صوبوں میں تقسیم ہونا ہے۔ سی ایم پنجاب بتائیں کہ کون سی نہر بند کر کے چولستان کینال کو پانی دینگے۔

پاکستان کے نہری نظام میں 20فیصد پانی پہلے سے کم ہے۔چودھری منظور اس وقت 95 ایکڑ فٹ پانی ہے 20ملئن سسٹم سے غائب ہو چکا ہے۔

وہاں زمینی۔ دینے والوں کو 9ماہ۔کئسے پانی دینگے۔چودھری منظور کہتے ہیں کہ 14ڈی بحال کرینگے۔اپ یہ کر سکتے ہیں یہ ہر صوبے کا حق ہے۔

سیلاب جولائی سے ستمبر تک آتے ہیں۔چولستان کینال۔کو کب سے پانی دینگے۔چودھری منظور باقی 9ماہ اس کی ال۔کو کہاں سے پانی دینگے۔

پہلے کہتے ہیں کہ یہ صرف سیلاب کے دنوں میں چلے گی۔

آپ چولستان کینال بنا رھے ہیں جس سے بنجر رقبہ آباد کیا جائیگا ۔

ایشو حکومت کو سپورٹ کر رھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چودھری منظور پانی دینگے کر رھے ہیں نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے.

اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.

(جاری ہے)

آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے.

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے .

حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی.

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں. 

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا