پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر شدید مندی کی زد میں۔۔۔!
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج اچانک اپنی حد کھو بیٹھی، ایک روز کی تیزی کے بعد شدید مندی کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس 1 لاکھ 15 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کاروبار کے آغاز پر ہی منفی رجحان دیکھنے میں آیا، 100 انڈیکس میں 1500 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں بینچ مارک 100 انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار 900 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا تھا ، پہلے سیشن کے دوران انڈیکس ایک لاکھ 16 ہزار کی حد عبور کر گیا تھا تاہم کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 622 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 15 ہزار 532 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 13 پیسے کمی ہوئی جس کے ساتھ انٹر بینک میں ڈالر 280.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔