وہاڑی:پاک آرمی کا تربیتی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ‘دونوں پائلٹ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
وہاڑی (نامہ نگار) ضلع وہاڑی کے نواحی علاقے رتہ ٹبہ کے قریب پاک آرمی کا ایک تربیتی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ خوش قسمتی سے طیارے میں سوار دونوں پائلٹ بروقت ایجیکٹ ہو کر محفوظ رہے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق طیارہ ایک آئل ڈپو کے قریب گرا‘ تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کوئی بڑا سانحہ رونما ہونے سے بچ گیا۔ واقعہ کی وجوہات جاننے کیلئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ پاک فوج کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹوں کی جان بچ جانا ایک بہت بڑی نعمت ہے اور واقعہ میں کسی شہری یا املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔