چین کا انسداد دہشت گردی کے مؤقف پر پاکستان کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک:چین نے انسداد دہشت گردی کے مؤقف پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اسحاق ڈار نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر چینی ہم منصب کو بریفنگ دی۔
چین کی جانب سے پاکستان کی طرف سے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کے مطالبے کا خیرمقدم کیا گیا۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہے اور خطے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں، پاکستان معاملے کوسنجیدگی اور ذمہ داری سےسنبھالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اداکارہ سجل علی اور فواد خان بھائی، بہن؟ ویڈیو نے مداحوں کو حیران کردیا
اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا کہنا تھا کہ چین خطے کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چین نے ہمیشہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے مؤقف کی حمایت کی۔
وانگ ای نے کہا کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاک بھارت کشیدگی دونوں ممالک اور خطے کے امن کیلئےنقصان دہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان کی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔