پہلگام فالس فلیگ آپریشن: مقبوضہ کشمیر نے مودی کی پالیسیوں کو ٹھکرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
پہلگام حملہ نے بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں امن و امان اور سیاحت کے دعوؤں کا پردہ چاک کردیا۔ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کو خون میں نہلا دیا، جس سے مقبوضہ وادی میں حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ مودی حکومت کی پالیسیوں نے کشمیر کے عوام کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے شہریوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں ہر بات کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا جاتا ہے، لیکن اب کشمیری اس ظلم کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ ایک کشمیری شہری نے کہا کہ ہمیں سیاحت نہیں، ترقی چاہیے۔ آپ ہماری اذان پر حملہ کرتے ہیں اور پھر سیاحت چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کشمیریوں کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں، انہیں سزا مت دیں، کشمیری رہنماؤں کی حکومت سے اپیل
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے میں مارے جانے والوں میں کشمیری بھی شامل ہیں، لیکن ان کا ذکر کسی نے نہیں کیا۔ ایک کشمیری شہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں اتنے لوگ مارے گئے، افسوس ہے، اس میں میرا بھائی عابد بھی تھا، لیکن اس کا نام کسی نے نہیں لیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اب سمجھ چکے ہیں کہ بھارت کے زیر سایہ کشمیر ہمیشہ جلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے بھارت سے آزادی۔
پہلگام واقعہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جس میں کشمیر کی عوامی حکومت اور ان کے حقوق کا مکمل طور پر مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پہلگام کشمیر مقبوضہ کشمیر مودآرٹیکل 370.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام مودا رٹیکل 370
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔