بھارتی افواج کو کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی مل گئی، ٹائمز ناؤ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
بھارت کی پہلگام حملے کو جواز بنا کر خطے میں جنگی ماحول پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی اور اسے سلسلے میں مودی نے افواج کو کسی بھی وقت، کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی دے دی۔
ٹائمز ناؤ کے مطابق بھارتی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے مسلسل اجلاس میں پاکستان کے خلاف فوری اور اسٹریٹیجک اقدامات پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کھلی دھمکی دی جبکہ پاکستان کے شہریوں کو ملک بدر کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا بھارتی فیصلہ، نفرت انگیز پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
بھارت کی جانب سے دوبارہ سرجیکل اسٹرائیک یا بالاکوٹ جیسے حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بھارتی فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مکمل تیار باشی کا حکم، ایک اور مسلح تصادم کا خدشہ بڑھ گیا۔
بھارت دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزام تراشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے دریا خشک ہونے کی بھارتی پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے۔ بھارت پانی کی قلت کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے۔
بھارتی وزراء کا جنگی بیانیہ، خود ساختہ خطرہ بنا کر عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔ مودی حکومت کی جارحانہ سوچ نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا، امن کی ہر کوشش سبوتاژ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا پر پاکستان کو مٹی میں ملا دینے کی کھلم کھلا دھمکی دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ کے لیے تیار ہے۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف آپریشن بدلہ شروع ہو جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی جنگی تیاریوں پر پاکستان حکومت اور افواج نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری مکمل کر لی۔ بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر عالمی طاقتیں خاموش، کیا دنیا نئی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جا رہی ہے بھارت کی کسی بھی رہا ہے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔