ملک کے بالائی حصّے میں مغربی ہواؤں کا سسٹم اثر انداز، غیر متوقع بارشوں کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
ملک کے بالائی حصّے میں مغربی ہواؤں کا سسٹم اثر انداز ہو رہا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے سسٹم کے تحت آج سے 5 مئی تک سندھ میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ حیدرآباد، مٹیاری، سکھر، تھرپاکر اور ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج سے اتوار کے دوران تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
ملک میں رواں ہفتے دو مغربی ہواؤں کے سسٹم اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ 5 مئی سے سندھ پر اثر انداز ہونے والے سسٹم کو بحیرۂ عرب کی نمی سے تقویت ملے گی، آئندہ ہفتے میں سندھ میں مزید بارشیں نظر آرہی ہیں، کراچی میں بھی یہ سسٹم کہیں کہیں بارش برسا سکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق سسٹم کی شدت اور بارش کی درست پیشگوئی 5 مئی کے بعد کی جاسکتی ہے۔
محکمۂ موسمیات نے یہ بھی بتایا کہ مئی سندھ میں عام طور پر خشک گزرتا ہے اس لیے رواں ماہ میں سندھ میں ہونے والی بارش غیر معمولی موسمی سرگرمی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مغربی ہواؤں ہے محکمہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔