عمران خان اور تحریک انصاف ہی وہ آواز ہیں جو عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں ہم ملک اور قوم کے دفاع کے لیے صفِ اول میں کھڑے ہوں گے، اہم سمجھتے ہیں حالیہ حساس حالات میں حکومت کو فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانی چاہیے تھی، تاکہ تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا، بدقسمتی سے حکومت نے یہ موقع ضائع کیا، نہ صرف اے پی سی نہیں بلائی گئی بلکہ اس کی جگہ ایک حکومتی وزیر کی طرف سے یک طرفہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی نے ملکی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر بریفنگ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ موجودہ صورت حال میں ضروری تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جاتی۔ کمیٹی کے بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشتگردی کی دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی ہے، عمران خان جو اس وقت ناجائز طور پر قید میں ہیں، انہوں نے جیل سے بھی قوم کے نام اپنے پیغامات میں واضح طور پر نہ صرف دہشت گردی کی مذمت کی بلکہ قومی یکجہتی، اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا مؤقف خود وضاحتی ہے، اور انہوں نے جس بصیرت اور جرأت کے ساتھ قوم کو متحد ہونے کا پیغام دیا، وہ ایک قومی راہنما کی سوچ کا عکاس ہے۔
سیاسی کمیٹی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں ہم ملک اور قوم کے دفاع کے لیے صفِ اول میں کھڑے ہوں گے، اس قومی مؤقف کو ہم نے اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر بھی واضح کیا اور ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی جس میں پارٹی نے بھارتی جارحیت اور پروپیگنڈا سے متعلق اپنے اصولی مؤقف کو پوری قوم کے سامنے رکھا جو اس بات کی علامت ہے کہ پی ٹی آئی ہر سطح پر قومی سلامتی، خود مختاری اور یکجہتی کے لیے سنجیدہ اور ہمہ وقت تیار ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں حالیہ حساس حالات میں حکومت کو فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانی چاہیے تھی، تاکہ تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا، بدقسمتی سے حکومت نے یہ موقع ضائع کیا، نہ صرف اے پی سی نہیں بلائی گئی بلکہ اس کی جگہ ایک حکومتی وزیر کی طرف سے یک طرفہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔
سیاسی کمیٹی نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف ہی وہ آواز ہیں جو عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں، عمران خان نے ہمیشہ قومی اتحاد، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کی بات کی ہے اور وہ کسی قسم کی تقسیم، تفرقہ یا کمزوری کے حامی نہیں رہے۔ بیان میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چونکہ یہ محض ایک حکومتی بریفنگ ہے، نہ اس میں کوئی قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے، اور نہ ہی عمران خان جیسے اہم قومی راہنما کو شامل کرنے کی نیت ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس بریفنگ میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت ضروری نہیں ہے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف اس حکومتی بریفنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری آج سیاسی جماعتوں کو ملکی سلامتی کی صورت حال پر اہم بریفنگ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی کمیٹی تحریک انصاف بریفنگ میں پی ٹی ا ئی سی کمیٹی اے پی سی قوم کے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔