پہلگام واقعہ مودی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا، محبوبہ مفتی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پہلگام واقعہ مودی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا، محبوبہ مفتی کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 5 May, 2025 سب نیوز
سرینگر: پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ فالس فلیگ حملے کے بعد نہتے کشمیریوں کو دہشتگرد قرار دے کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کلگام میں دو روز قبل اغوا کیے گئے نوجوان امتیاز مغرے کی لاش دریا سے ملی ہے، جس کے ذمہ دار بھارتی سکیورٹی ادارے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ باندی پورہ، کلگام اور دیگر علاقوں میں بھی بھارتی فورسز نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، ان کے گھروں پر چھاپے مارے، گرفتاریاں کیں اور کئی کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ پہلگام حملے کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ عوام کے سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ مودی حکومت کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا تاکہ کشمیری مسلمانوں پر جبر کیا جا سکے اور عالمی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
دفاعی ماہرین نے بھی اس حملے کو مودی سرکار کی خطرناک سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ کا مقصد کشمیر میں بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے اور یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی اخبار نیویارک ٹائمز آرمی چیف کی قائدانہ صلاحیتوں کا معترف، مرد آہن قرار دے دیا نیب میں اعلیٰ سطحی تبادلے اور ترقی، چار افسران ڈائریکٹر جنرل تعینات جناح ہاؤس حملے میں غفلت برتنے پر فوج کے 3 اعلیٰ افسران کو بغیر پنشن و مراعات ریٹائر کیا گیا، اٹارنی جنرل پاکستان میں دہشتگردی کیلیے بھارتی سہولت کاری کے مستند شواہد سامنے آگئے چین میں کشتی حادثہ کے باعث 10 افراد ہلاک فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ اسرائیلی بمباری سے مزید 19 فلسطینی شہید، نیتن یاہو کی ایران پر حملے کی دھمکیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی مودی حکومت
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔